حکومت کی جانب سے عوام کو بھاری بھرکم بجلی بلوں سے نجات کے لیے حکومت اور آئی پی پیز مالکان کے مابین مذاکرات میں اہم پیش رفت اور آئی پی پیز مالکان کی اکثریت نے معاہدوں پر نظر ثانی کیلئے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سےعوام کو بھاری بھرکم بجلی بلوں سے نجات دلانے کے حکومتی مشن میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور بیشتر آئی پی پیز مالکان نے بجلی ریٹس سے متعلق معاہدات پر نظر ثانی کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سےآئی پی پیز کے کچھ مالکان نظر ثانی کیلئے تیار بھی نہیں ہیں اور حکومت کا نظرثانی کیلئے تیار نہ ہونے والے آئی پی پیز کیلئے سخت مؤقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ معاون خصوصی محمد علی کی سربراہی میں ٹاسک فورس کا معاملہ پر کام جاری ہے اور بعض پاور پلانٹس نے بات چیت کے زریعے نظر ثانی پر آمادگی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں غیر قانونی مائننگ سے خزانے کو اربوں روپوں کا نقصان
ذرائع کے مطابق آئی پی پیز مالکان کے ساتھ ٹاسک فورس کے مزاکرات مرحلہ وار کئے جارہے ہیں اور کچھ آئی پی پیز کی جانب سے ہیٹ ریٹ آڈٹ پر تحفظات کا اظہار بھی سامنے آیا ہے اور ابتداعی طور پر حکومت ایک سے 2 روپے فی یونٹ تک قیمت میں کمی کیلئے کوشاں ہے اوررواں مالی سال کے دوران تقریباً 2 ہزار ارب روپے کیسپٹی پیمنٹس کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دوسری جانب درجنوں آئی پی پیز بغیر بجلی کی پیداوار کے اربوں کی کیپسٹی وصول کر رہی ہیں جس کی وجہ سے کیپسٹی پیمنٹس کے باعث صارفین پر تقریباً 20 روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ ہے۔