سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ جلسہ کرنا ہر پارٹی کا حق ہے لیکن ان کے وزیراعلیٰ کیا کر رہے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جوڈیشری کےچند لوگ قابض ہوئے، پارلیمنٹ کا نقشہ تبدیل کیا، پنجاب میں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلے نے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کا وجود ختم کردیا، ان کے فیصلے نےکہہ دیا اب ووٹ آف نو کنفیڈنس نہیں ہوسکتا۔
آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سینئر سیاستدان ہیں۔ اپنا مسودہ شامل کروانا چاہتے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:یہ آئینی ترمیم کے ذریعے دوسرے معنوں میں مارشل لا لگا رہے تھے : مولانا فضل الرحمٰن
انہوں نے کہاکہ چاہتے ہیں ہر کورٹ کا اپنا کام ہو، اس کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے، حکومت کے پاس نمبر پورے ہیں، جب چاہیں ترمیم کرسکتے ہیں، لیکن پیپلزپارٹی سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے،ہر جماعت نے آئینی ترمیم پر تجویز دی ہے، پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ سب متفق ہوکر چیزوں کو آگے لے کر چلیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان کیلئے غلیظ زبان استعمال کرتے تھے، مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ عمران خان اسرائیل کا ایجنٹ ہے جو کہ اسرار احمد کے کتاب میں بھی تحریر ہے, جو اسرائیل فلسطین اور لبنان میں دہشتگردی کر رہا ہے جبکہ اسرائیل کے جریدے میں جو عمران خان مضمون شایع ہوا ہے وہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان ایک پلانٹڈ شخص ہے جو کہ پاکستان کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے ۔

