چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے لا پتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کی اور انہوں نے کہا ایک کیس میں ضمانت کے بعد جیل کے باہر سےگرفتاری عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں لا پتہ افرد سےمتعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اشتیاق ابراہیم نے کی ، انہوں نے دورانِ سماعت کہا کہ جب ایک کیس میں ضمانت ہوجائے تو پھر کیسے کسی کو جیل کے باہر سے گرفتار کرتے ہیں۔ چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ایسا کرنا عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ وزیراعلی کو بلا لیں، میں بیٹھا ہوں۔ چیف جسٹس پشارو ہائی کورٹ نے کہا کہ اسد قیصر کیس میں عدالت قرار دے چکی ہے کہ ایک کیس میں ضمانت ہونے کے بعد دوسرے درج مقدمے میں گرفتار نہیں کرسکتے۔ انکا کہنا تھا کہ اس کیس پر 10 منٹ نہیں لگتے، وزیراعلی سے بات کریں کہ وہ آ جائیں۔
مزید پڑھیں: لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک ڈی جی آئی ایس آئی تعینات
ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ امن و امان کے حوالے سے اجلاس ہے اس وجہ سے وزیراعلی مصروف ہیں جس پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ بات کرلیں، میں نے آج ہی آرڈر کرنا ہے۔ چیف جسٹس پشارو ہائی کورٹ نے کہا کہ ایک کیس میں ضمانت ہونے کے بعد پولیس کیسے کسی کو جیل کے باہر سے گرفتار کرتے ہیں اوریہ ایک کیس نہیں ہے، ایسے اور بھی کیسز ہے جن میں ضمانت ہونے کے بعد لوگوں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔

