امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری طویل جنگ نے امریکا کے انتہائی اہم اور مہنگے ترین دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلسل فضائی حملوں اور دفاعی کارروائیوں کے باعث امریکا نے اپنے جدید ترین میزائلوں اور گولہ بارود کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ ایشیا اور یورپ میں بھی امریکی عسکری تیاریوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں عسکری ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری اس فوجی مہم میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور دفاعی نظاموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔
اس صورتحال نے واشنگٹن کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ایشیا اور یورپ کے لیے مختص اپنے عسکری ذخائر سے ہتھیار نکال کر ایران جنگ کی ضرورت پوری کرے، جس سے دیگر خطوں میں امریکی دفاعی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے۔
مالی لحاظ سے یہ جنگ امریکا کے لیے انتہائی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس جنگ پر 28 سے 35 ارب ڈالر کے اخراجات آ چکے ہیں، جو اوسطاً ایک ارب ڈالر روزانہ بنتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہتھیاروں کی اس قدر تیزی سے کھپت اور بھاری مالی اخراجات نے پینٹاگون کے لیے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے، کیونکہ ان مہنگے ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
فروری 2026 کے اواخر میں شروع ہونے والا امریکا ایران تنازع اب ایک ایسی ’اعصاب کی جنگ‘ میں بدل چکا ہے جس نے سپر پاور کے فوجی وسائل کا امتحان لینا شروع کر دیا ہے۔
ایران کی جانب سے زیرِ زمین میزائل شہروں اور وسیع ڈرون نیٹ ورک کے استعمال نے امریکا کو مجبور کیا کہ وہ اپنے مہنگے ترین انٹرسیپٹر میزائل اور اسمارٹ بم استعمال کرے۔
اب تک کی صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جہاں امریکا نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے، وہیں خود امریکا کے اپنے ’اسٹریٹجک ریزرو‘ خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اگر اس وقت چین یا روس کے ساتھ کوئی نیا محاذ کھلتا ہے، تو امریکا کے پاس جدید ہتھیاروں کی وہ مقدار موجود نہیں ہوگی جو ایک عالمی طاقت کے لیے ضروری ہے۔ یہ بحران ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی محاذ پر بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے، کیونکہ عوام اتنی بڑی رقم کے ‘بے سود’ استعمال پر سوال اٹھا رہے ہیں۔