حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت مزید 9 ادارے تحلیل کرنے کا ارادہ ہے، جس سے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے وزارت صحت کے تحت مزید 9 ادارے تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیشنل ہومیوپیتھی کونسل اور قومی طب کونسل بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ قومی کونسل برائے روایتی اور متبادل ادویات کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ این ایچ سی اور این ٹی سی کو اس نئی کونسل میں ضم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہونڈا 125 خریدنے والوں کیلئے خوشخبری، آسان اقساط کا منصوبہ
ذرائع نے مزید بتایا کہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل کو پی این ایم سی میں شامل کیا جائے گا۔ اسی طرح، نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پاپولیشن ویلفیئر، ریجنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ فار پاپولیشن اسٹڈیز، اور نیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف فرٹیلیٹی کنٹرول کو بھی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آر ٹی آئی، این آئی پی ایس، اور این آر آئی ایف سی کو بھی ضم کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں بہبود آبادی کے لیے ایک مرکزی ادارہ قائم کیا جائے گا۔ اس نئے ادارے کا ڈی جی پاپولیشن سربراہ ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق انسداد ملیریا ڈائریکٹوریٹ کو اسلام آباد انتظامیہ کے تحت لایا جائے گا، جبکہ نیشنل ایمرجنسی ہیلتھ سروسز کو قومی ادارہ صحت میں ضم کیا جائے گا۔ اس طرح 9 اداروں کے تحلیل و انضمام سے عملے میں تقریباً 80 فیصد کمی آئے گی۔