لاہور:طالبہ پر گارڈ کے مبینہ تشدد کیخلاف احتجاج،28طلباء اور 4پولیس اہلکار زخمی

لاہور:طالبہ پر گارڈ کے مبینہ تشدد کیخلاف احتجاج،28طلباء اور 4پولیس اہلکار زخمی

لاہورگلبرگ کے علاقے میں نجی کالج کے طلباءو طالبات کا احتجاج، طلباء نے مبینہ طور پر فی میل سٹوڈنٹ سے مبینہ زیادتی کے خلاف احتجاج کیا اس دوران انتظامیہ کے سیکیورٹی عملے اور پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں 28 سٹوڈنٹ اور 4پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کےمطابق گلبرگ کے علاقے میں نجی کالج کے سٹوڈنٹس نے پنجاب کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے خلاف کالج کیمپس 10 نزد حفیظ سنٹر کے قریب احتجاج کیا اس دوران کالج کے طلبا اور سیکورٹی عملہ میں تصادم کے نتیجے میں 28سٹوڈنٹ شدید زخمی ہو گئے۔ طالب عملوں کی شناخت نام رابعہ نعمان ، فاصل عباس ِ ، سلمان بشارت ، جازب جمشید ، راجہ سلامت ، سراج شاہ، یوسف خان ، ریحان فاروق ، منیب طاہر، احمد ناصر ، بلال ، عبدالرحمن ، سبحان الیاس، زین حسین ، شیراز عاشق ،حمزہ طالب ، عبداللہ امجد ، عرفان نصیر ، عثمان شہزاد ، حنیف مظہر، اقصا حسین ، احمد علی ، احسان علی ، احسان سمش ، احمد شاہ ، عالم باسط ، ذوہیب عمر ، عبداللہ روحل اور عثمان شہزاد کےنام سے ہوئی ہے۔

اطلاع ملنے پر ریسکیو1122کی ایمرجنسی گاڑیاں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اورزخمی طالب علموں کو طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے سروسز ہسپتال منتقل کردیااحتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ کیمپس نمبر 10 میں سیکورٹی گارڈ اور وین ڈرائیور نے فی میل سٹوڈنٹ کا زیادتی کا نشانہ بنایا،کالج انتظامیہ اور پولیس معاملے کو دبا رہے ہیں،پولیس اور کالج انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے مذاکرات کی کوشش کرتے رہے مگر انہوں نے بات ماننے سے انکار کر دیاپولیس کا کہنا تھا کہ طلبہ کی طرف سے لڑکی سے زیادتی کے معاملے پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق مسلم ٹاون میں واقع پنجاب کالج کے باہر پولیس اور طلبائ میں تصادم سے 5 طلباءاورچار پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیا اور ملزم سیکورٹی گارڈ کو فوری حراست میں لیا، تاہم واقعے کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لاہور پولیس نے مبینہ طالبہ اور اس کے والدین کو ڈھونڈنے کا عمل مسلسل جاری رکھا ہوا ہے، کالج انتظامیہ اور طلباءکی مدد سے حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، کالج کے تمام کیمروں کا ریکارڈ بھی چیک کیا گیا ہے، تاحال واقعے کی تصدیق نہیں ہوئی، مبینہ متاثرہ بچی اور خاندان کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جارہی ہے، تمام ہسپتالوں کا ریکارڈ اور کالج سی سی ٹی وی ریکارڈنگ چیک کی جا چکی ہے، اب تک کسی متاثرہ بچی کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات لاہور پولیس کے سوشل میڈیا پر ان باکس کرکے ہماری مددکریں،حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق لاہور پولیس طلباء سے کوئی سختی نہیں کر رہی، تمام کارروائی کی خود نگرانی کر رہا ہوں، ثبوت ملتے ہی فوراً قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا، کسی بھی قسم کی پیشرفت کی صورت میں فورا سب کو مطلع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے خلاف مشتعل طلبائ نے احتجاج کیا اور کالج پرنسپل کی حوالگی کا مطالبہ کیا، ایس پی ماڈل ٹاون اور اے ایس پی نے پرنسپل کو بحفاظت نکالا، طلباء کے پتھراو سے ایس پی، اے ایس پی اور پولیس اہلکاروں کو چوٹیں آئیں، طلباء کی کالج کے سیکورٹی عملے سے مڈ بھیڑ میں چند طلباء کو ہلکی چوٹیں آئیں ہیں، زخمی طلباء کو فوری طبی امداد دی گئی۔

سوشل میڈیا افواہوں کے برعکس کسی بچے کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم احتجاج کرنے والے طلباء سے مسلسل بات کر رہے ہیں ، کوئی مبینہ متاثرہ بچی کی نشاندہی نہیں کر پایا، حقائق تک پہنچنے کے لیے طلبائ کی ہر بات کو سن کر تحقیقات کر رہے ہیں، طلباء سے گزارش ہے حقائق تک پہنچنے میں ہماری مددکریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *