خیبر پختونخوا کے وزیر امجد علی ڈاکٹر نہیں پنساری ہیں، سینئرصحافی فیاض ظفر کا دعویٰ

خیبر پختونخوا کے وزیر امجد علی ڈاکٹر نہیں پنساری ہیں، سینئرصحافی فیاض ظفر کا دعویٰ

سوات سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی فیاض ظفر نے خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی کے خلاف متعدد سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک ویڈیو بیان میں فیاض ظفر نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر امجد علی طبی ڈاکٹر نہیں ہیں اور ان کے بقول وہ حکیم اور پنساری کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدالت میں اس معاملے کو اٹھائیں گے کہ صوبائی وزیر کس بنیاد پر اپنے نام کے ساتھ “ڈاکٹر” کا لقب استعمال کرتے ہیں۔

فیاض ظفر نے مزید الزام عائد کیا کہ صوبائی وزیر کے اثاثوں اور مالی معاملات سے متعلق کئی سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب بھی ان کے بقول صوبائی وزیر کی مبینہ کرپشن یا مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے آواز اٹھائی جاتی ہے تو ناقدین اور صحافیوں کو قانونی نوٹسز بھیجے جاتے ہیں۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں اور ایک میڈیا گروپ کو بھی قانونی نوٹس موصول ہوا ہے۔ ان کے مطابق وہ ان الزامات اور نوٹس کے معاملے پر عدالت سے رجوع کریں گے اور اپنے مؤقف کا دفاع کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت نے بجلی بلوں پر بڑی پیچیدگی ختم کر دی

فیاض ظفر نے اپنے بیان میں مزید دعویٰ کیا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو قانونی نوٹسز جاری کرنے کا مقصد تنقیدی آوازوں کو دبانا ہے، تاہم ان کے بقول ایسے مقدمات عدالتوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب خبر کی اشاعت تک صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی یا ان کے ترجمان کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ معاملے سے متعلق کسی عدالتی فیصلے یا سرکاری تحقیقات کی تفصیلات بھی تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

Related Articles