آئینی ترمیم معاملہ : جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا بڑا اعلان

آئینی ترمیم معاملہ : جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا بڑا اعلان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم دو تین ہفتے سے زیر بحث ہے مجوزہ ترمیم پر مشاورت کا عمل جاری ہے ۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ فراخدلی سے حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں حکومت کے پہلے مسودے کو مسترد کیا آج بھی اس کو مسترد کرتے ہیں اگر افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو خوش آمدید کہا دو روز قبل بلاول بھٹو کے گھر بیٹھ کر طویل مشاورت کی کچھ چیزیں ابھی بھی ایسی ہیں جن پر مشاورت ہونی چاہیے کل تین جماعتیں بیٹھیں اور طویل مشاورت ہوئی اس میں بھی کچھ حصوں پر اتفاق رائے ہوا کچھ ابھی بھی باقی ہیں ، پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات میں انہیں آگاہ کیا۔

پی ٹی آئی بڑی جماعت ہے اور بڑی جماعت کو باہر نہیں رکھا جا سکتا، آج تک تاخیر کی ایک وجہ یہی تھی کہ متفقہ ہو پی ٹی آئی کا ترمیم سے متعلق مثبت رویہ رہا ہےکچھ چیزوں پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے طے یہی ہوا ہے کہ کل بھی مشاورت جاری رہے گی۔ حکومت کو یہی کہتا ہوں کہ خصوصی کمیٹی میں نمائندگی کو مزید بڑھایا جائے، بار کونسل کے نمائندوں کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے ایک طرف مشاورت کی جا رہی ہے اور ارکان پارلیمنٹ کو اغوا ءکیا جا رہا ہے ، جے یو آئی کے ایک رکن کو اغوا کیا گیا۔

اس کی فیملی میرے گھر بیٹھی تھی۔ شاہ محمود قریشی کی بہو کواغواءکیا گیا ہم یہ بدناشی ماننے کو تیار نہیں ہیں ان اوچھے ہتھکنڈوں کا یہی جواب ہوگا کہ ہم مزاکرات روک دیں بدماشی ہم بھی جانتے ہیں ہم اس صورتحال کو تبدیل دیکھنا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کو یہی کہتا ہوں کہ خصوصی کمیٹی میں نمائندگی کو مزید پڑھایا جائے ۔ ہم نے پارٹی ارکان کو نوٹس کے ذریعے ہدایات جاری کر د ی ہیں جب تریسٹھ اے میں تبدیلی کی گئی تو اس کو غلط کہا تھا ایک ایسے وقت تبدیلی لائی گئی کہ ایک حکومت فائدہ اٹھائے۔

اس اہم ترمیم کے پیچھے ایک اہم آدمی ہے ان آدمی کا نام ہے ۔ ملٹری عدالتوں سے متعلق ان کی رائے ہے شاہد بلاول اور وزیراعظم سے بھی میری بات ہو بات چیت چلنی چاہیے ایسی قانون سازی لائی گئی تو اب تک پریکٹس کی ضرورت کیا تھی ساری صورتحال دیکھ رہے پیں تو اس پر اپنی رائے بھی دیں گے پھر ہم کہے گے کہ اس نامزد پارلیمنٹ کا اختیار نہیں ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہرنے کہا کہ پہلے دن سے مولانا صاحب سے کمٹ کیا تھا آپ کی رہنمائی میں آپ کے مسودے کے ساتھ آپ کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے، پہلے دن سے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہمارے ممبران کو اٹھایا جا رہا ، پھر بھی ہم کمیٹی کے اجلاس میں گئے آخری مراحل میں یہ آئینی ترمیم ہونے جارہی ہے ۔

اس سب کے باوجود کہ حکومت آئینی ترمیم رکھنے کا اخلاقی جواز رکھتی ہے یا نہیں ہم بیٹھے ہمارے ایم این ایز اور سینیٹرز کو حراساں کیا جا رہا ہے پھر یہ ایوان بھی اپ کا ہے سارے آپ کے ہیں کل ایک اور بھی ہمارا اجلاس ہوگا اگر حکومت کا یہی رویہ رہا تو ہم آگے بیٹھ نہیں سکتے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارے پاس جو ڈر آفٹ آیا ہے اس میں ملٹری کورٹس کا کوئی ذکر نہیں ہے عمران خان سے ہدایات لے کر آپ کو بتائیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *