چین اور پاکستان کے مابین بزنس ٹو بزنس سرگرمیوں کے حوالے سے وزیر سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کی زیر صدارت اجلاس میں معروف پاکستانی اداروں کے ایگزیکٹوز کی شرکت اور طرفین نے روڈ شوز میں بھرپور شرکت کی یقین دہانی کروائی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور چین کے مابین بزنس ٹو بزنس سرگرمیوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور
وفاقی سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ، چین میں پاکستانی سفارتخانے سے اعلیٰ افسران کی آن لائن شرکت اور بریفنگ دی گئی۔پاکستان کی کاروباری تنظیموں کا چین میں اشتراک اور عملی تعاون پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے اظہار تشکر اور چین میں ہونیوالے روڈ شو میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اشتراک سے پاکستانی اداروں کی شرکت کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ عبد العلیم خان نے اس موقع پر کہا کہ لیدر اور فشریز کے لئے چین کے مختلف شہروں میں بڑے کنونشن، نمایاں پاکستانی کمپنیاں شریک ہوں گی اورفشریز روڈ شو 29 اکتوبر کوچنگ ڈاؤ چین میں 29 اکتوبر اورلیدر شو 5 نومبر گوانگزو میں ہو گ۔
، وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ کا کہنا تھا کہ فشریز کی 17کمپنیوں کے 30 نمائندے اور لیدر شو میں 10 اداروں کے 16 ایگزیکٹوز شریک ہونگے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی بزنس کمیونٹی عالمی روڈ شوز کے ذریعے امریکی اور یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہے اورچین میں کاروباری اداروں سے اشتراک کیلئے بورڈ آف انویسٹمنٹ مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ عبد العلیم خان نےکہا کہ 7شعبے اہم، لیدر، ٹیکسٹائل، میڈیکل اینڈ سرجیکل ایکوئپمنٹ، فروٹس اینڈ ویجیٹبل، پلاسٹک، فشریز و اینیمل فوڈ شامل ہیں۔پاکستان اور چین کاروباری اشتراک ملکی معیشت کے لئے بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ چین سے صنعتوں کی منتقلی میں پاکستان کو زیادہ سے زیادہ شئیر نکالنا چاہئے، وفاقی وزیر مواصلات نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر چین سے 168 اور پاکستان کی 78 کمپنیاں باہمی اشتراک کے لئے کام کر رہی ہیں اورچینی سفارت خانے کے تمام افسران بزنس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے کہا کہ چین سے کاروباری اشتراک میں اضافہ ہماری اولین ترجیح ہے، ہر ممکن تعاون کریں گے اورپاکستان کی بزنس کمیونٹی کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنائیں گے، وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیاں چینی اداروں سے “بی ٹو بی” اور زیادہ سے زیادہ “جوائنٹ وینچرز” یقینی بنائیں۔