امریکی ایوان نمائندگان کے 60 سے زائد اراکین نے صدر جو بائیڈن کو خط لکھ کر سابق وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستانی جیلوں میں موجود سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خط کی قیادت کانگریس کے رکن گریگ کیسر نے کی، جس میں انہوں نے پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اراکین عمران خان کی فوری رہائی اور پاکستان میں پارٹی کے اراکین کی بڑے پیمانے پر نظر بندی کے خاتمے کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے صدر بائیڈن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر پاکستانی حکومت سے عمران خان کی حفاظت کی ضمانت لے اور امریکی سفارت خانے کے عہدیداروں کو جیل میں عمران خان سے ملاقات پر زور دیں۔
اس خط پر ڈیموکریٹس کے کئی اراکین، جن میں راشدہ طلیب، الہان عمر، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، باربرا لی، بریڈ شرمین، ڈیبی واسرمین شولٹز اور رو کھنہ شامل ہیں، نے دستخط کیے ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اراکین پاکستانی نژاد امریکی عوام اور دنیا بھر میں کمیونٹی رہنماؤں کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کی حقیقی جمہوریت کی جدوجہد میں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ موسیقار یوسف اسلام (کیٹ اسٹیونز) نے بھی عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایک سال سے زائد عرصے سے غیر قانونی طور پر جیل میں قید رکھا گیا ہے اور انہیں حال ہی میں چہل قدمی کی بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔