پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ سے متعلق بڑا اعلان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ سے متعلق بڑا اعلان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم میں بڑی اور انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے نیا فارمیٹ متعارف کرا دیا ہے جس کا اطلاق 2026 کے کانٹریکٹ سائیکل سے ہوگا۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیرِ قیادت تیار کیے گئے نئے نظام کے تحت روایتی اے، بی، سی اور ڈی گریڈز کو ختم کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پانچ مختلف فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا جائزہ اس کے مخصوص فارمیٹ کے مطابق لیا جا سکے۔

نئے نظام کے مطابق ٹریک اے بی میں ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹرز شامل ہوں گے جبکہ ٹریک اے صرف ریڈ بال اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے مخصوص ہوگا۔ اسی طرح ٹریک بی سی میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کھیلنے والے کرکٹرز کو رکھا جائے گا جبکہ ٹریک ڈی میں ٹی ٹوئنٹی اور فرنچائز کرکٹ کے اسپیشلسٹ کھلاڑی شامل ہوں گے۔

پی سی بی کے مطابق نئے ماڈل میں ہر کھلاڑی کا موازنہ اپنے ہی فارمیٹ کے دیگر کرکٹرز سے کیا جائے گا جس سے سلیکشن اور معاوضوں کے نظام کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے سرکاری ملازمین وپنشنر کیلئے بڑی خوشخبری

بورڈ نے ٹیسٹ کرکٹرز کو عالمی سطح کی ریڈ بال فرسٹ کلاس لیگز کھیلنے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو مزید تجربہ اور بہتر مقابلے کے مواقع میسر آ سکیں۔

سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو تین اہم مراحل سے گزرنا ہوگا جن میں طبی معائنہ، ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت اور مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے پاس اب زیادہ واضح اور مؤثر نظام موجود ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی قرار دیا جا رہا ہے اور جو کھلاڑی میدان میں کارکردگی نہیں دکھائے گا اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا کہ نئے نظام کا بنیادی مقصد سلیکشن کے عمل کو شفاف بنانا ہے ان کے مطابق گزشتہ سال کانٹریکٹس کے حوالے سے کئی اعتراضات سامنے آئے تھے تاہم اب ہر کھلاڑی کو معلوم ہوگا کہ اسے کس شعبے میں مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اے کیٹیگری ٹیسٹ، بی کیٹیگری ون ڈے اور سی کیٹیگری ٹی ٹوئنٹی کرکٹرز سے منسلک ہوگی جبکہ انتخاب کا معیار صرف اور صرف کارکردگی ہوگی۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی کرکٹ ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نیا فریم ورک تیار کیا گیا ہے تاکہ پاکستانی کرکٹرز بین الاقوامی معیار کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔

میڈیکل ہیڈ ڈاکٹر جاوید مغل نے کہا کہ جدید کرکٹ میں فٹنس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اسی لیے تمام کھلاڑیوں کی جامع اسسمنٹ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق نئے نظام کی تیاری میں چار سے پانچ ماہ صرف کیے گئے تاکہ ایک مؤثر، شفاف اور پائیدار ماڈل تشکیل دیا جا سکے۔

پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ نئے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم سے نہ صرف کھلاڑیوں میں مسابقت بڑھے گی بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ کو بھی فروغ ملے گا اور قومی ٹیم کے لیے بہترین ٹیلنٹ کے انتخاب میں آسانی ہوگی۔

editor

Related Articles