امریکا اور ایران میں ممکنہ ڈیل، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں

امریکا اور ایران میں ممکنہ ڈیل، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی بازگشت نے عالمی منڈیوں میں مثبت لہر پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

 دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے اپنی نئی پالیسی واضح کرتے ہوئے امریکی مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

عالمی منڈی کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی خام تیل کی قیمت میں 11 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد یہ 83 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں یکدم بڑی کمی

اسی طرح برطانوی خام تیل کی قیمت بھی 9 فیصد کمی کے بعد 90 ڈالر فی بیرل تک گر گئی ہے۔ معاشی ماہرین اس کمی کی بڑی وجہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کو قرار دے رہے ہیں جس سے توانائی کی عالمی سپلائی بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی ’ٹرانزٹ فیس‘ یا محصول عائد نہیں کرے گا۔

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے جنگی جہازوں کو کسی صورت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ دوست ممالک کے تجارتی و بحری جہاز ایرانی افواج کے ساتھ کوآرڈینیشن کے بعد وہاں سے گزر سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم شاہراہ کی سلامتی اور انتظام میں امریکا کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اس اہم پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا کر دی ہے۔

آبنائے ہرمز میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ناکہ بندی نے عالمی توانائی کے بحران کو جنم دیا تھا، جس کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں۔

پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران اور چین کی ثالثی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان برف پگھلنے کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔

ایران کا یہ اعلان کہ وہ ‘فیس’ وصول نہیں کرے گا، دراصل عالمی برادری کو یہ پیغام ہے کہ وہ صرف اپنی سیکیورٹی اور خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے نہ کہ عالمی تجارت کو یرغمال بنانا۔ تاہم امریکا اور اسرائیل کے جنگی جہازوں پر پابندی برقرار رکھ کر تہران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں مغربی فوجی غلبے کو قبول نہیں کرے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *