مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے آئینی ترمیم کے لیے 11 ووٹ خرید لیے تھے۔
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ حکومت نے 26ویں آئینی ترمیم کیلئے 11ووٹ خرید لیے تھے اورہمارے پاس 8 ووٹ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرہم ووٹ نہ دیتے تو ترمیم کا بہت گندا ڈرافٹ سامنے آتا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہم نے اپوزیشن میں رہ کر یہ ترمیم منظور کروائی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک سے 2028 تک سودی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی کے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے پر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے حالات کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا تاہم ہماری جانب سے تحریک انصاف کی قیادت کو مذاکرات کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا گیا۔
اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن نےاعلان کیا کہ کہا 8 دسمبر کو پشاور میں بہت بڑی عوامی سطح پر اسرائیل مردہ باد کانفرنس ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن اسلامی دنیا خرگوش کی نیند سو رہی ہے، صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا عملی طور پر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اسرائیل کو پسپائی پر مجبور کیا جاسکے۔