لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 100 روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد معاشی بہتری کے حکومتی دعوے بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، لیکن اشرافیہ ٹیکس ادا نہیں کرتی، اور بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بجلی کے ٹیرف اور پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بغیر ملکی معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 60 روپے فی لیٹر اضافی ٹیکس ناجائز ہے، اور اس ٹیکس کے خاتمے سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جب تک آئی پی پیز معاہدے ختم نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا، اور پی آئی اے، اسکولوں، اور قومی اداروں کی فروخت کی مخالفت کی جائے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ اداروں کو تباہ کرنے والوں کو ریاستی اثاثے سستے داموں فروخت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج کریں گے، اور وکلا سے مشاورت آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کی، مگر انہیں یقین ہے کہ یہ قبضہ ایک دن ضرور ختم ہوگا۔