برطانیہ کی پارلیمنٹ نے اداکارہ ماہرہ خان کو فنی اور خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے خدمات پر ایوارڈ سے نواز دیا۔
اس حوالے سے اداکارہ نے کہا کہ اپنی تعریف پر خوش ہوتی ہوں لیکن سیلف میڈ کہلانا پسند نہیں، میری کامیابی میں والدین، ٹیچرز، مینٹور، ساتھیوں اور مداحوں کا بڑا کردار ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھاکہ والدین ورکنگ پیرنٹس تھے، والدہ ٹیچر اور والد بینکر تھے جنہوں نے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے پر پوری توجہ دی، کالج گئی تو آسان وقت نہیں تھا، دو ملازمت کرتی اور اپنے بل خود ادا کرتی تھی۔
ماہرہ خان نے مزید کہا کہ جب میں کہتی تھی کہ فلم اسٹار بنوں گی تو لوگ مجھ پر ہنستے تھے، انڈسٹری میں کام کرنا آسان نہیں تھا لیکن پھر جدوجہد کے بعد کامیابی بھی ملی، خاندان کی پہلی لڑکی تھی جس نے بیرون ملک اکیلے سفر کیا۔
، ایوارڈ وصول کرنے پر اداکارہ نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست و احباب اور مداحوں کے سر سجاتے ہوئے ان کا شکریہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور : چھٹیوں کے باوجود بند نہ ہونے والے اسکولوں کیخلاف کارروائی
انہوں نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنی تقریر میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی کامیابی کو سراہانے اور خواتین کو خود مختار بنانے پر بھی زور دیا۔

اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ پاکستانی انڈسٹری میں میرے علاوہ بھی کئی دیگر فنکار ایسے ہیں جو اس عزت افزائی کے مستحق ہیں۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام پر اداکارہ نے انسٹا اسٹوری شیئر کرتے ہوئے اپنی کامیابی مداحوں کے ساتھ شیئر کی ہے۔
اس موقع پر تقریب کے منتظم افضل خان ایم پی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہرہ خان کی کامیابی دیگر خواتین کیلئے مشعل راہ ہے۔



