جی ایچ کیو حملہ کیس؛ عمران خان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف فرد جرم ایک مرتبہ پھر مؤخر

جی ایچ کیو حملہ کیس؛ عمران خان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف فرد جرم ایک مرتبہ پھر مؤخر

سانحہ 9 مئی کے دوران جی ایچ کیو حملہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف فرد جرم ایک مرتبہ پھر مؤخر ہوگئی۔

وکلاء نے فرد جرم کے چالان پر اعتراضات اٹھائے ۔ جی ایچ کیو حملے کے مقدمے میں 94 گواہ ہیں، مگر کسی گواہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان یا کسی لیڈر کا نام نہیں لیا۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ جن گواہوں کے بیان پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں کو ملوث کیا گیا وہ گواہ اب منحرف ہو چکے ہیں۔ وکلاء صفائی نے مزید کہا کہ پولیس نے جو چالان میں نقشہ پیش کیا ہے، اس میں کسی بھی ملزم کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی 9 مئی جلائو گھیرائو کے 4 مقدمات میں ضمانتیں منظور

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی حاضری معافی کی درخواست دائر کی۔ فرد جرم کے لیے 25 ملزمان میں چالان کی نقول بھی تقسیم نہیں کی جا سکیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کچہری عدالت میں سماعت کی، جبکہ پولیس کی طرف سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے فرد جرم سے بچنے کے لیے بری کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

جی ایچ کیو حملہ کیس کی تفصیلات کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر ملزمان پر مجموعی طور پر 27 سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں۔

چالان کے مطابق ملزمان نے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی قیادت میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا، گیٹ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور فوجی جوانوں کی جانب سے روکے جانے کے باوجود توڑ پھوڑ کی۔چالان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ ملزمان نے حساس عسکری املاک کو نقصان پہنچایا، آتشزنی کی، اور پیٹرول بموں سے حملہ کیا۔

جی ایچ کیو گیٹ پر پیٹرول بم پھینکے گئے اور ٹائر جلا کر آگ لگائی گئی۔ حملہ آوروں نے پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور عسکری ملازمین پر حملے کیے۔چالان میں کہا گیا ہے کہ اس دہشت گردی کے پیچھے ’وردی کے نعرے‘ اور ’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ جیسے نعرے لگائے گئے تھے۔

اس کے علاوہ حساس دفاتر جیسے کہ آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو کی عمارات پر بھی حملے کیے گئے، جو کہ ایک منظم سازش کے تحت کی گئی مجرمانہ کارروائی تھی۔موقع پر 6 ملزمان گرفتار ہوئے جن کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں کی گئیں۔ چالان میں استدعا کی گئی ہے کہ ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *