بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام  سے متعلق وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ

بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام  سے متعلق وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے پروگرام ’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ کو صوبوں کے حوالے کرنے کے لیے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر کھیل داس کوہستانی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ 18 ویں ترمیم کی روشنی میں جب بیشتر اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، تو امدادی رقوم کی ادائیگی اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی صوبوں کو ہی سنبھالنی چاہیے۔

صوبائی مطالبات اور حکومتی مؤقف

وفاقی وزیر کے مطابق بعض صوبوں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ اس پروگرام کو صوبائی سطح پر چلایا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ اتحادی جماعتوں اور تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے وسیع تر مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 19 ہزار 500 روپے کیسے ملیں؟

داس کوہستانی نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی کہ پروگرام کو ختم کیا جا رہا ہے؛ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بی آئی ایس پی کو مکمل ختم کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔

18 ویں ترمیم اور سماجی تحفظ کے پروگرام

پاکستان کے آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے شعبے صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز 2008 میں وفاقی سطح پر کیا گیا تھا تاکہ غریب ترین خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی جا سکے۔

گزشتہ چند سالوں سے وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی تقسیم اور سماجی پروگراموں کے انتظام پر بحث جاری ہے، جس میں یہ نکتہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ وفاق کو اپنے مالیاتی بوجھ میں کمی کے لیے ایسے پروگرام صوبوں کو منتقل کر دینے چاہئیں۔

انتظامی تبدیلی کے ممکنہ اثرات اور چیلنجز

وفاقی حکومت اس اقدام کے ذریعے اپنے بجٹ خسارے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ سماجی تحفظ کے فنڈز کا بوجھ صوبے خود اٹھائیں۔

چونکہ بی آئی ایس پی ایک وفاقی علامت ہے، اس لیے اس کی منتقلی پر سندھ اور پنجاب جیسے بڑے صوبوں کے تحفظات سامنے آ سکتے ہیں، خاص طور پر فنڈز کی دستیابی کے حوالے سے۔

وفاقی سطح پر اس پروگرام کا ڈیٹا بیس کافی حد تک مستحکم ہے۔ صوبوں کو منتقلی کی صورت میں یہ چیلنج ہوگا کہ کیا صوبائی حکومتیں اسی شفافیت کے ساتھ مستحقین تک رقم پہنچا سکیں گی؟

یہ فیصلہ آئینی طور پر صوبائی خود مختاری کو مضبوط کرے گا، لیکن اس کے لیے صوبوں کو اپنے وسائل پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔

Related Articles