سابق سینٹر وزیر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی میں برادر اسلامی ملک سعودی عدرعرب اہم متحرک کردار ادا کر سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رہنما پاکستان مسلم لیگ ن اور سابق سینٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے اہم برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور یو اے ای متحرک کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید عمران خان کی رہائی کے حوالے سے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنکہ کردار کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بہتر تعلقات تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین برف پگھل رہی ہے، سابق سینٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور یو اے ای کے امیر کیساتھ بہت مستحکم تعلقات ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے سعودی عرب ممکنہ طور پر پر ایک متحرک کردار ادا کر سکتا ہے۔
مشاہد حسین سید کے مطابق اس سے قبل امریکہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پاکستان سے رہائی کے حوالے سے بھی مرکزی کردار ادا رکر چکے ہیں۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ جس طرح سے عمران خان کی اہلیہ اور انکی اہلیہ کو ریلیف حاصل ہوا ہے آئیندہ چند دنوں میں عمران خان کو بھی ریلیف حاصل ہو جائے اور ممکن ہے عمران خان کو ہاؤس اریسٹ رکھا جائے۔
عمران خان حکومت کے خاتمے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے واضح کیا کہ ڈونلڈ لو نے انکی حکومت ہٹائے جانے پر کہا تھا کہ اب امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مشاہد حسین نے کہا کہ عمران خان کو ہٹائے جانے میں ساری گیم پاکستان میں ہی بنی تاہم امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اسے پسند کیا۔