تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا یو ٹرن، “مداخلت نامنظور” سے “مداخلت کی درخواست” تک کا سفر

تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا یو ٹرن،  “مداخلت نامنظور” سے “مداخلت کی درخواست” تک کا سفر

تحریک انصاف کےامریکی حمایتیوں کی جانب سے ایک نیا یو ٹرن سامنے آیا ہے، جس نے سیاسی مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

پی ٹی آئی کا “امریکی مداخلت نامنظور” کے نعرے سے شروع ہونے والا یہ سفر اب “امریکی عدم مداخلت نا منظور” کے مطالبے تک پہنچ چکا ہے۔تحریک انصاف کے چند اہم حمایتیوں نے حال ہی میں 46 امریکی ارکانِ کانگریس کے ذریعے صدر جو بائیڈن کو ایک نیا خط لکھا ہے۔

اس خط میں پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کی درخواست کی گئی ہے، جو تحریک انصاف کی جانب سے ماضی میں کی جانے والی “غلامی نا منظور” اور “آزادی کا حق” کی آوازوں کے برعکس نظر آتی ہے۔

خط میں جہاں ایک طرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کی درخواست کی گئی، وہیں دوسری طرف کشمیر کے مسئلے یا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کسی کارروائی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ تحریک انصاف نے صرف اپنے سیاسی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔

حیرت انگیز طور پر اس خط میں پاکستان کی معاشی امداد کی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔ اس کے بجائے صرف تحریک انصاف کی حمایت کا سوال اٹھایا گیا۔خط میں پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی اور دیگر بے بنیاد الزامات کا ذکر کیا گیا، مگر اس کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ کیا یہ سیاسی مفاد کی ایک اور کوشش ہے؟

خط میں اسلام آباد میں موجود امریکی سفیر اور امریکی سفارت خانے کے رویے پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی سرگرمیوں پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، تو دوسری طرف اس خط میں ان کی طرف سے امریکی سفارت خانہ سے رویے کی تبدیلی کی آرزو ظاہر کی گئی ہے۔

یہ دلچسپ اور پیچیدہ تبدیلی تحریک انصاف کے بیانیے کے تناظر میں ایک واضح تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔ “غلامی نا منظور” کا نعرہ بلند کرنے والوں نے اب “آزادی نامنظور” کا مطالبہ کر دیا ہے، جو سوالات کے انبار کا باعث بن رہا ہے۔ 

آیا تحریک انصاف کے امریکی حمایتی اتنے بااثر ہیں کہ انھوں نے یہ سب کچھ محض سیاسی مفاد کے لیے کیا؟ یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور کہانی چھپی ہوئی ہے؟ یہ سوالات وقت کے ساتھ مزید واضح ہوں گے۔

تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا تازہ ترین خط کئی سیاستی پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے، جو پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کی حمایت کرتا ہے، مگر اس میں کشمیر یا پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ خط تحریک انصاف کے بیانیے کی تبدیلی اور سیاسی مفاد کی ایک اور پیچیدہ داستان بن چکا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *