سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی جانب سے متنازع بیان دینے پر ان کیخلاف ٹیلی گراف ایکٹ 1885 اور دیگر قوانین کے تحت مزید مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ویڈیو بیان پربشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تعداد 7 ہوگئی ہے، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، ملتان ، لیہ ، گوجرانوالہ اور اوکاڑہ کے بعد اب بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ گکھڑ منڈی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
مقدمہ وزیرآباد کے شہری سعید بٹ کی مدعیت میں درج کیا گیاہے ، ایف آئی آر کے متن کے مطابق بشریٰ بی بی نے لوگوں کو ورغلانے کے لیے نفرت انگیز بیان دیا ۔
ڈی جی خان میں مقدمہ غلام یاسین نامی شہری کی درخواست پر درج کیا گیا، مقدمے کے متن کے مطابق بشریٰ بی بی نے سوچی سمجھی سازش کے تحت ویڈیوبیان دیا، لوگوں کو ورغلانے کے لیے نفرت انگیز بیان دیا۔
ایف بی آر متن کے مطابق انہوں نے سعودی عرب کے خلاف بیان دے کر عوام کے جذبات سے کھیلا گیا، بشریٰ بی بی نے خارجہ پالیسی اور مفادعامہ کے خلاف بیان دیا۔
ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف دفعہ 126 ٹیلی گراف ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
گوجرانوالہ میں بھی بشریٰ بی بی کےخلاف شہری کی درخواست پرتھانہ صدرمیں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔
ایف آئی آر کے مطابق بشریٰ بی بی کا بیان پاک سعودی خارجہ پالیسی کےخلاف ہے، بیان سوچی سمجھی سازش ہے جس سےعوام کےجذبات مجروح ہوئے ہیں، مدعی نے ایف آئی آرمیں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کےخلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اوکاڑہ میں بشریٰ بی بی پرتھانہ صدر اوکاڑہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ، مقدمہ کا اندراج شہری مقصود احمد کی مدعیت میں کیاگیا ۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل بشریٰ بی بی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھاکہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں،انہیں کہا گیا کہ یہ آپ کس شخص کو لے کر آئے ہیں۔
بشریٰ بی بی کے مطابق باجوہ کو کہا گیا ہم تو ملک میں شریعت ختم کرنے لگے ہیں اور آپ ایسے شخص کو لےکر آئے، کہا گیا ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں تب سے ہمارے خلاف گند ڈالنا شروع کردیا گیا، بانی پی ٹی آئی کو یہودی ایجنٹ کہنا شروع کیا گیا۔