جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نےکہا ہے کہ پاکستان کے مفاد پرست سیاست دانوں اور بیورو کریسی کو کہنا چاہتا ہوں آپ کے بس میں ملک کی خوشحالی نہیں، آپ راستے سے ہٹ جائیں اور اپنی ناکامی کو تسلیم کریں۔
تفصیلات کے مطابق سکھر میں سندھ باب السلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اداروں کی طاقت کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے، غلط حکمرانی کی وجہ سے ملک میں قدم قدم پر اضطراب ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کو انارکی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، عوام آئین اور قانون کا احترام کرتی ہے لیکن اگر ملک میں قانون پر حکمرانوں کی جانب سے عمل درآمد نہیں تو پھر قوم بھی اس کی پابند ہونے کی مجاز نہیں۔
سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں عوام کی منتخب اسمبلیاں نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک خاص ایجنڈا ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر اسمبلی کے حوالے سے طے کیا جاتا ہے کہ کس طرح کی قانون سازی اور ترامیم پاس کی جائیں گی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے موجودہ پارلیمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”حکمرانوں اور ان کے پیچھے کھڑی طاقتور قوتوں نے آئین کا حلیہ بگاڑنے کا سوچا ہے۔“ انہوں نے ماضی کے آمرانہ دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا مذاق اڑایا گیا، جس کی تلافی 18 ویں ترمیم کے ذریعے کی گئی۔ تاہم، اب 26 ویں ترمیم کے ذریعے اس محنت پر پانی پھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ظلم کیا گیا“ اور قومی اسمبلی میں ان کی 16 سیٹوں کو 8 میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ اقدام صرف اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ جے یو آئی (ف) والے غیر آئینی کاموں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔