راولپنڈی ڈویژن میں انتظامی بنیادوں پر پانچ نئی تحصیلوں کے قیام کی تجویز

راولپنڈی ڈویژن میں انتظامی بنیادوں پر پانچ نئی تحصیلوں کے قیام کی تجویز

راولپنڈی کے محکمہ ریونیو نے پنجاب حکومت کو راولپنڈی ڈویژن میں پانچ نئی تحصیلوں کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے محکمہ ریونیو نے پنجاب حکومت کو راولپنڈی ڈویژن میں پانچ نئی تحصیلوں کے قیام کی تجویز پیش کی ہے اوریہ تجاویز مالی سال 2025-26 میں لاگو کرنے کے حوالے سے حکمتِ عملی مرتب کرنے کا کہا گیا ہے۔نئی پانچ تحصیلیں با لترتیب ضلع راولپنڈی میں دو نئی تحصیلیں قائم کیجائیں گی جبکہ اٹک، جہلم اور چکوال اضلاع میں ایک ایک نئی تحصیل قائم کرنے کی تجویز پنجاب حکومت کو پیش کی گئی ہے۔

یہ تجاویز پنجاب حکومت کے ایک سرکلر کے بعد پیش کی گئی ہیں جو تین ماہ قبل تمام 42 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو جاری کیا گیا تھا، جس میں اضافی تحصیلوں کے لیے فزیبلٹی رپورٹس طلب کی گئی تھیں۔ زیادہ تر اضلاع نے کم از کم ایک یا دو نئی تحصیلوں کی ضرورت کی اطلاع دی، جس سے حکومت کو توسیع کے منصوبے آگے بڑھانے پر غور کیا گیا ۔

راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر کو آگاہ کیا ہےکہ ضلع میں دو اضافی تحصیلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کا موجودہ حجم اور آبادی بنیادی انتظامی خدمات کو مؤثر طریقے سے فراہم کرنے مٰں مشکلات سے دوچار ہے۔

اس وقت ضلع راولپنڈی سات تحصیلوں پر مشتمل ہے، جن میں راولپنڈی، کہوٹہ، کلر سیداں، گوجر خان، ٹیکسلا، صدر چھاؤنی شامل ہیں اور مزید دو تحصیلوں کو شامل کرنے سے کل تعداد نو ہو جائے گی۔ تاریخی طور پر، ضلع میں مری اور کوٹلی ستیاں تحصیلیں بھی شامل تھیں، جو ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بننے پر دوبارہ ضلع مری کو تفویض کر دی گئیں۔

نئی تحصیلوں کے قیام کا مقصد انتظامیہ کو غیرمرکزی بنانا اور افسر شاہی کی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے تاکہ بنیادی صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، اور قانونی مدد جیسی ضروری خدمات تک رسائی کو بہتر بنائیں، خاص طور پر دور دراز یا گنجان آباد علاقوں میں عوام کو خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *