پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے عالمی سطح پر اہم سنگِ میل عبور کر لیا

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے عالمی سطح پر اہم سنگِ میل عبور کر لیا

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بین الااقوامی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ۔ اس سلسلے میں انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی (انمول)، اٹامک انرجی کینسر ہسپتال لاہور کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے علاقائی تعاون کے مرکز قرار دینےکی تختی باضابطہ طور پر پیش کی گئی ۔یہ تقریب ہفتہ کے روز لاہور انمول میں منعقد ہوئی۔

انمول کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کولیبریٹنگ سینٹر قرار دینے کا فیصلہ 16 فروری 2026 کو ویانا میں ہونے والے ایک باضابطہ معاہدے کے بعد کیا گیا اور اس معاہدے پر نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے دستخط کیے، جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی اقوامِ متحدہ کے ویانا دفتر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے موقع پر موجود تھے۔

یہ تقریب اس اہم اعزاز کی یادگار کے طور پر منعقد کی گئی جو پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ نیوکلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال، خصوصاً کینسر کی تشخیص اور علاج کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ایک کولیبریٹنگ سینٹر کے طور پر انمول تحقیق، استعدادِ کار میں اضافہ اور تکنیکی تعاون کے ذریعےبین الاقوامی توانائی ایجنسی کے عالمی نیٹ ورک میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سائنس پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے کہا کہ اٹامک انرجی کے کینسر ہسپتال ملک بھر کے مریضوں کے لیے حقیقی معنوں میں “امید کی کرن” ہیں کیوں کہ یہاں کسی بھی مریض کو علاج سے محروم نہیں رکھا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور سائنس میلہ 2025 کا اختتام، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی مزید سائنس میلوں کے انعقاد کی تجویز

انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کولیبریٹنگ سینٹر کا درجہ ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ اضافی ذمہ داری بھی ہے اور یہ کینسر کے علاج کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے اور تاریخی اس پیش رفت کے بعد پاکستان کے پانچ ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے کولیبریٹنگ سینٹرز بن چکے ہیں، جبکہ نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیوتھراپی انسٹی ٹیوٹ (نوری)، اسلام آباد کو “ریز آف ہوپ” اقدام کے تحت اینکر سینٹر کا درجہ حاصل ہے۔ دیگر اداروں میں پیاس، نیساس، نیاب اور پنسٹیک شامل ہیں۔

ڈی جی نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکولوجی ڈاکٹر شازیہ فاطمہ نے کہا کہ دنیا کے 45 ممالک میں 92 کولیبریٹنگ سینٹرز موجود ہیں اور اس عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی نمایاں نمائندگی قومی فخر کا باعث ہے۔
ڈائریکٹر انمول ڈاکٹر عامرہ شامی نے کہا کہ یہ اعزاز ادارے کی تحقیق، تربیت اور مریضوں کی معیاری دیکھ بھال کے عزم کا مظہر ہے۔

اس موقع پر تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ روپے کی لاگت سے نصب جدید ٹرو بیم ہائپر آرک لیناک مشین کا افتتاح کیا گیا جب کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن فاؤنڈیشن کے ہنرگاہ کی سرپرستِ اعلیٰ میڈم فہمین علی نے نئی کیموتھراپی بے کا افتتاح کیا جس سے علاج کی گنجائش 20 سے بڑھ کر 50 مریضوں تک ہو گئی

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک بھر میں 21 کینسر ہسپتالوں کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، جہاں ملک کے تقریباً 80 فیصد کینسر مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انمول ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد مریضوں کو ریڈیوتھراپی، کیموتھراپی اور نیوکلیئر میڈیسن کی سہولیات انتہائی کم لاگت پر فراہم کرتا ہے اور جدید لینئر ایکسیلیریٹرز اور جدید امیجنگ سہولیات سے لیس ہے جو بروقت تشخیص اور مؤثر علاج کو یقینی بناتے ہیں

انمول نے سینکڑوں آنکولوجسٹ، میڈیکل فزسسٹس اور ٹیکنالوجسٹ کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ اٹامک انرجی کمیشن کے 21 کینسر ہسپتالوں کا یہ نیٹ ورک مجموعی طور پر ہر سال دس لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج بھی فراہم کر رہا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *