سربراہ جمیعتِ علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد مارچ مؤخر کر دیا

سربراہ جمیعتِ علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد مارچ مؤخر کر دیا

سربراہ جمیعتِ علمائے اسلام  مولانا فضل الرحمان نے مدارس رجسٹریشن بل پر اسلام آباد کی طرف مارچ کو مؤخر کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سربراہ جمعیتِ علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے سکھر جلسے مٰں واضح کیا تھا کہ وہ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے حتمی فیصلہ پشاور کے جلسہ عام میں کریں گے،  اس حوالے سے آج مفتی تقی عثمانی صاحب سے بات ہوئی، اس میں طے یہ ہوا کہ تمام اتحاد مدارس کا اجلاس ہوگا اور سب کو اعتماد میں لے کر ایک متفقہ ؤقف اختیار کریں گے، اس کے بعد اگر کال دینی پڑی تو آپ تیار رہیں، 16 یا 17 دسمبر کو یہ اجلاس ہوگا۔

سربراہ جمیعتِ علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 50 ہزار کے قریب شہدا میں 75 فیصد بچے اور خواتین ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکا اسرائیل کو سپورٹ کر رہا ہے، کیا ان کو انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق ہے؟ ان کے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، امریکا اور اسرائیل انسانیت کے قاتل ہیں، امریکا اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین پر صہونیت کا کوئی حق نہیں ہے، فلسطین کی سرزمین فلسطینیوں کی ہے، ہم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، فلسطین کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، غزہ کے مسلمانوں پر بمباری ہو رہی ہے، اسرائیل بے بس اور مظلوم مسلمانوں پر بمباری کررہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ 26ویں ترمیم لائے، ہم نے ایک صحت مند ترمیم دی، یہ 56 شقوں پر مشتمل ترمیم ایک کالا ناگ بنا کر لائے تھے، ہم اس ترمیم کو 56 سے 34 شقوں پر لائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتیں عوام کی نہیں ہیں، ہم عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ججز کو کمزور کیا گیا ہے، پہلے ترمیمی بل ہم سے چھپایا جارہا تھا،پھر کہا جارہا تھا کہ 9 گھنٹے میں ترمیم پاس کروانی ہے، ہم نے انکار کیا، پھرایک ماہ تک اس پر ہم بات چیت کرتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں دھمکیاں مت بھیجا کرو، وردی والوں ایجنسیاں والوں، ہمیں دھمکیاں مت بھیجا کرو، دھمکیوں سے ہم ڈرتے نہیں، ہم بگڑتے ہیں، ہم تو تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ہم نے تو ان جیالوں کو قابو رکھا ہوا ہے، اگر ہم نے آںے کا فیصلہ کیا تو تمہاری گولیاں ختم ہوجائیں گی ہمارے سینیے ختم نہیں ہوں گے‘۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’شرافت سے رہو گے تو شرافت سے رہیں گے اور اگر بدمعاشی کروگے تو ہم سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں ہوگا‘۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے ابھی ایک اور چال چلی ہے، ہمارے ہی رنگ کے مولویوں کو اٹھا کر میڈیا پر لارہے ہیں، تم علماء کو لڑانے کی کوشش کر رہے ہو، ہم علماء سے نہیں لڑیں گے۔

جمیعتِ علمائے اسلام کے پشاور جلسے سے خطاب میں رہنما جے یو آئی ایف مفتی اسد محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیادت نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا تو اس پر لبیک کہیں گے، ہم جب اسلام آباد جائیں گے تو پی ٹی آئی والوں کی طرح واپس نہیں آئیں گے۔

مفتی اسد محمود نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر عدم اعتماد کے بعد علی امین ڈی آئی خان کینٹ میں چھپ گئے تھے، علی امین گنڈاپور ووٹ پر نہیں پیسے دے کر آئے ہیں، پی ٹی آئی والے سن لیں یہ علی امین گنڈا پور اسٹبلشمنٹ کا بندہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈا پور اسلام آباد کے سیکٹر کمانڈر کے اشارے پر اسلام آباد گئے تھے، علی امین گنڈا پور کور کمانڈر پشاور کی مرضی پر حکمرانی کر رہے ہیں۔

جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو جوتے کی نوک پر بھی نہیں رکھتے، اسٹبلشمںٹ کے بل بوتے پر بیٹھے شخص ہمارے سامنے مونچھوں کو تاؤ نہ دیں۔

مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ علی امین کے سڑکوں پر بھاگنے کی ویڈیو آج بھی موجود ہیں، علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد سے بھاگ کر مانسہرہ میں پناہ لی۔

ان کا کہنا تھا کہ مدارس پر پابندی کسی صورت قبول نہیں، زرداری صاحب یہ تو آپ ہیں، حاکم علی زرداری بھی مدارس پر پابندی نہیں لگا سکتے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *