حکومت بجلی کے ٹیرف میں 12 روپے تک کمی کے لیے تیاریوں کا آغاز

حکومت بجلی کے ٹیرف میں 12 روپے تک کمی کے لیے تیاریوں کا آغاز

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کے ٹیرف میں 12 روپے فی یونٹ تک کمی لانے کے لیے نجی آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز)، سرکاری بجلی گھروں اور شمسی و پن بجلی منصوبوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

حکومت کا مقصد مارچ 2025 تک یہ مذاکرات مکمل کر کے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے۔
حکومت نے اس سلسلے میں سی پیک اور سرکاری پاور پلانٹس کے قرضوں کی ری پروفائلنگ کا عمل شروع کر دیا ہے اور بجلی کے بلوں پر محصولات میں کمی کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات فروری 2025

تک مکمل ہو جائیں گے، اور آمدنی میں کمی کو معیشت کے دیگر سیکٹرز سے پورا کیا جائے گا۔
سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں حکومت نے پانچ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے ہیں، جن میں حبکوپاور، روش پاور، اے ای ایس لال پیر پاور، صباپاور پلانٹ اور اٹلس پاور شامل ہیں۔ اس کے علاوہ،

حکومت 365 میگاواٹ کی پاک جین پاور لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے جا رہی ہے، جس سے حکومت اب تک چھ کنٹریکٹس ختم کر چکی ہے۔
حکومت کا منصوبہ ہے کہ پاور ٹیرف میں تین روپے فی یونٹ کمی کی جائے، اور قرضوں کی ری پروفائلنگ کے ذریعے مزید چار روپے فی یونٹ کمی لائی جائے۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں میں کمی سے اس کمی کو پانچ روپے فی یونٹ تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس طرح آفس پیک ٹیرف 41.68 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 29.68 روپے فی یونٹ تک پہنچ جائے گا، جبکہ پیک آور ٹیرف 36 روپے فی یونٹ تک کم ہو جائے گا۔
بجلی کے شعبے پر کام کرنے والی ٹاسک فورس نے 18 آئی پی پیز کے ساتھ اپنی بات چیت مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور ان کنٹریکٹس کو ’’لینے پر ادائیگی‘‘ کے موڈ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان 18 آئی پی پیز میں سے 15 پہلے ہی نظرثانی شدہ کنٹریکٹس پر دستخط کر چکی ہیں، اور حکومت اب ایٹمی بجلی گھروں، پن بجلی گھروں، کوئلے کی بنیاد پر چلنے والے اور آر ایل این جی کی بنیاد پر چلنے والے بجلی گھروں کے ساتھ بھی بات چیت کرے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *