فافن کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے ووٹ بینک کو برقرار رکھا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پی پی پی نے قومی اسمبلی کے لئے مجموعی طور پر 68 فیصد اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے 62 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ یہ تناسب 2018 کے انتخابات سے تھوڑا کم ہے، جب ان جماعتوں نے قومی اسمبلی میں 69 فیصد اور صوبائی اسمبلیوں میں 61 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس بار بھی کسی بڑی جماعت نے اپنے روایتی گڑھ میں مکمل اکثریت حاصل نہیں کی۔ خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے مقابلوں میں 45 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ باقی 55 فیصد ووٹ دیگر جماعتوں میں تقسیم ہو گئے۔ جے یو آئی نے 16 فیصد، ن لیگ نے 10 فیصد اور اے این پی نے 7 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
سندھ میں پیپلزپارٹی نے قومی سطح پر 46 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ جی ڈی اے، پی ٹی آئی اور آزاد امیدواروں نے بالترتیب 12 فیصد، 9 فیصد اور 8 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ بلوچستان میں ووٹ بینک کی تقسیم سب سے زیادہ منقسم رہی، جہاں علاقائی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر 51 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
جے یو آئی، ن لیگ اور پی پی نے بلوچستان میں بھی اہم ووٹ شیئرز حاصل کیے، تاہم، ان جماعتوں نے ان کے ووٹ شیئرز سے زیادہ سیٹیں جیتیں۔ رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ انتخابات میں سیاسی منظرنامہ متنوع رہا اور بڑی جماعتوں کی برتری میں فرق آیا ہے۔