امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے حالیہ مذاکرات میں کافی حد تک لچک اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے اور موجودہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا مؤقف پہلے کے مقابلے میں نرم ہوا ہے۔ تاہم امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت میں مصروف ہے تاکہ عالمی تجارت کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ہر قسم کے ضروری سامان اور وسائل سے مکمل طور پر لیس ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔