اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ داؤد جان، جس نے حال ہی میں انڈونیشیا میں گلوبل ایسوسی ایشن آف مکسڈ مارشل آرٹس (گاما) کے زیرِ اہتمام ہونے والے ٹورنامنٹ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ داؤد جان مکسڈ مارشل آرٹس کے ایتھلیٹ ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں سپورٹس سائنسز کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے ایک بڑی قربانی دی۔ سپانسرشپ کے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے، انہوں نے اپنی موٹر سائیکل، موبائل اور دیگر ضروری چیزیں فروخت کر دیں تاکہ وہ انڈونیشیا جانے کے لیے رقم کا بندوبست کر سکیں۔ اس کے باوجود، داؤد جان نے اپنے عزم میں کمی نہیں آنے دی اور اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے محنت جاری رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے ان کے پاس کم وسائل تھے اور انڈونیشیا جانے کی تیاری کرنے کے لیے صرف چند دن ٹریننگ کا موقع ملا۔
انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں داؤد جان نے 61.2 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان کا پہلا نیو ورلڈ نمبر 3 رینک حاصل کیا اور اپنے ہوم گراؤنڈ پر انڈونیشیا کے مشہور مکس مارشل آرٹسٹ ایکو سپوترا کو شکست دی۔ یہ ان کے لیے ایک تاریخی کامیابی تھی، کیونکہ ایکو سپوترا ساؤتھ ایسٹ ایشین گیمز کے میڈل ہولڈر اور دنیا کی دوسری بڑی چیمپیئن شپ “ون چیمپئن” فائٹر بھی رہ چکے ہیں۔ داؤد جان نے انہیں تیسرے راؤنڈ میں شکست دی۔
داؤد جان نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ ان کے لیے یہ تمغہ جیتنا ایک بہت بڑی بات تھی، کیونکہ انہیں اس سفر میں کئی مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ان مشکل دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب میڈل جیتا تو وہ وقت یاد آیا جب انہیں سپانسرشپ نہیں مل رہی تھی اور سب ان کے پیغامات کا جواب نہیں دے رہے تھے۔ اب، جب انہوں نے کامیابی حاصل کی، تو سب نے انہیں مبارکباد دی۔
داؤد جان کا کہنا تھا کہ اگر ایتھلیٹس کو سپانسرشپ کی سہولت حاصل ہو، تو وہ نہ صرف کانسی بلکہ سونے کا تمغہ بھی جیت سکتے ہیں۔ وہ ایک دن سونے کا تمغہ جیت کر اپنے مخالفین کو خاموش پیغام دینے کا خواب دیکھتے ہیں۔

