قومی اسمبلی نے بجٹ منظورکر لیا،ٹیکس، گاڑیوں،موبائل فونز اور سوشل میڈیا آمدن سے متعلق اہم فیصلے

قومی اسمبلی نے بجٹ منظورکر لیا،ٹیکس، گاڑیوں،موبائل فونز اور سوشل میڈیا آمدن سے متعلق اہم فیصلے

  قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا مالی بجٹ بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے،جس کے تحت ٹیکس نظام، کسٹمز قواعد، گاڑیوں کی درآمد، موبائل فونز، سوشل میڈیا آمدن اور مختلف کاروباری شعبوں سے متعلق متعدد اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فنانس بل کی شق وار منظوری مکمل کی گئی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ فنانس بل کو ایوان نے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

اجلاس کے دوران بجٹ تجاویز پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اپوزیشن ارکان عالیہ کامران، نعیمہ کشور اور شاہدہ اختر علی کی ترامیم منظور نہ ہو سکیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما علی قاسم گیلانی نے اپنی ترمیم واپس لے لی۔

یہ بھی پڑھیں :گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں حیران کن اضافہ ،گاڑی مالکان پریشان

منظور شدہ ترامیم کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے موبائل فونز پر عائد ٹیکس کی ادائیگی کے طریقہ کار میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے اور اب صارفین یہ رقم ایک ہی مرتبہ ادا کرنے کے بجائے اقساط کی صورت میں بھی جمع کرا سکیں گے۔

نئے مالی سال کے آغاز سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس نافذ ہوگا، جبکہ ملکی اور غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو دی جانے والی بعض ٹیکس رعایتیں یکم جولائی 2027 سے لاگو ہوں گی۔

فنانس بل کے تحت لگژری اور بڑی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، درآمدی دو ہزار سے تین ہزار سی سی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی 86 فیصد جبکہ تین ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر 92 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب ماحول دوست سفری ذرائع کے فروغ کے لیے 75 ہزار امریکی ڈالر تک مالیت رکھنے والی برقی گاڑیوں پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے زیادہ قیمت والی برقی گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد تک ٹیکس عائد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں :حکومت نے قومی اسمبلی سے بجٹ منظور کرا لیا ، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد

بجٹ میں پٹرولیم اور ماحولیاتی معاونت لیوی سے متعلق ایک اہم شق بھی ختم کر دی گئی ہےاسی طرح کسٹمز حکام کو پابند بنایا گیا ہے کہ کسی شہری یا تاجر کے اثاثے ضبط کرنے سے قبل اسے مؤقف پیش کرنے اور وضاحت کا مکمل موقع فراہم کیا جائے۔

حکومت نے ٹیکس نظام میں بھی کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں فولاد کے کاروبار پر بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک جوتوں کے تاجروں کو خصوصی رعایت دی گئی ہے۔

سالانہ 20 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے کاروباری افراد کو فائنل ٹیکس نظام سے نکلنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ نان فائلرز کے لیے جرمانوں اور سرچارج کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

بل کے تحت اسٹیٹ بینک کو ملک بھر کے بینکوں کے ڈیٹا پر مشتمل مرکزی کمپیوٹرائزڈ نظام قائم کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہےمزید برآں ادویات، کھاد، چینی اور برقی آلات کے شعبوں میں کام کرنے والے بڑے تقسیم کاروں کے لیے کم از کم ٹیکس کی شرح نصف فیصد مقرر کی گئی ہے۔

فنانس بل میں ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق اگر کسی ٹیکس گزار کے لیے آڈیٹر مقرر کیا جائے تو وہ 15 دن کے اندر اس تقرری کے خلاف اعتراض دائر کرنے کا قانونی حق رکھے گا۔

نئے بجٹ میں محصولات بڑھانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جبکہ بعض شعبوں کو مراعات دے کر معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

editor

Related Articles