تحریک انصاف کی حکومتی دھرنوں میں میڈیا کی زینت بننے والی خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروسز 1122 من پسند افراد کو نوازنے کی فیکٹری بن گئی جبکہ اپنوں کو ترقی دینے کیلئے عجیب و غریب طریقہ کار بھی اپنایا جانے لگا ہے۔
کنٹریکٹ (عارضی) بنیاد پر ایسی ہی ایک تقرری ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ناصر خان کی ہے جن کی تقرری کا سرکاری نوٹیفیکیشن تو 12 اکتوبر 2015 کو جاری ہوا لیکن انہیں سروس (ملازمت کا) کنٹریکٹ پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔ عارضی ملازمت کی اس سرکاری دستاویر پر انہوں نے یکم اکتوبر 2015 کو ہی دستخط کر رکھے تھے۔
موجود دستاویزات کے مطابق اس سے قبل وہ محکمہ معدنیات کے انسپکٹوریٹ میں گریڈ 17 کی پوسٹ پر ملازم تھے۔ جب ریسکیو سروسز نے اسامیاں مشتہر کیں تو ناصر خان نے اپنے محکمہ سے نان اوبجیکشن سرٹیفیکیٹ (این او سی) حاصل کی۔ یاد رہے یہ این او سی ریسکیو 1122 میں گریڈ 17 کی پوسٹ پر اپلائی کرنے کے لیے حاصل کی گئی۔ لیکن ان کی تقرری کنٹریکٹ کی بنیاد پر گریڈ 18 میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر (ڈی ای او) کے طور پر کر دی گئی۔ سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو انہوں نے اپلائی گریڈ 17 کی پوسٹ کے لیے کیا تھا لیکن محکمہ ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز نے کمال فراخ دلی اور سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناصر خان کو گریڈ 18 میں بھرتی کر لیا۔ تقربیاً اڑھائی سال بعد 2 مارچ 2018 کو اس افسر کی ملازمت کو محمکہ ریسکیو سروسز میں مستقل (ریگولرائز) کر دیا گیا۔
ناصر خان دراصل گریڈ 18 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ہیں جو ایکٹنگ چارج پر ڈائریکٹر پلاننگ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس ریگولیشن 2015 کے تحت ڈائریکٹر کی پوسٹ پر ترقی کے لیے سات سال کا تجربہ ضروری تھا لیکن ناصر خان کو نوازنے کے لیے 16 فروری 2024 کو نظر ثانی کر کے ریگولر پروموشن کے لیے درکار تجربہ کو چھ سال کر دیا گیا اور ان کی ترقی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پر ہوگئی، ستم بالائے ستم یہ کہ ان کی ڈائریکٹر کی پوسٹ پر ریگولر پروموشن کے وقت ان کا ملازمتی تجربہ چھ سال سے بھی کم تھا لیکن تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر انہیں ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے عہدہ پر مستقل کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس ریگولیشن 2015 کے تحت مطلوبہ ایکسپیرینس سرٹیفیکٹس (تجرباتی سرٹیفکیٹس) تصدیق شدہ ہونا لازمی ہے ان کے ایکسپیرینس سرٹیفیکٹس پر پاکستان آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسر کی سٹیمپ لگی ہے۔
رابطہ کرنے پر ناصر خان نے ’آزاد ڈیجیٹل‘ کو بتایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کے ایکسپیرینس سرٹیفیکٹس تصدیق شدہ نہ ہوں۔ ان کے مطابق ان کے ایکسپیرینس سرٹیفیکٹس پر اصل دستخط اور مہر موجود ہے تاہم مزید سوالوں کے جواب انہوں نے اپنے دفتر انے کے ساتھ مشروط کردئیے۔
اس جیسی تمام بے ضابطگیوں کی اصل وجہ رُولز اور ریگولیشن کا نہ ہونا ہے۔ خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس ایکٹ 2012 کی سیکشن 28 کے تحت ملازمین کی سروس سے متعلق رُولز جبکہ سیکشن 29 کے تحت ادارے کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے ریگولیشن بنائے جانے تھے لیکن طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ رُولز اور ریگولیشن نہیں بنائے گئے جس کا کونسل غلط فائدہ اٹھا کرکئی دوسرے منظورِ نظر افسران کو نواز رہی ہے جس کا نقصان اہلیت پر پورا اترنے والے افسران کو ہو رہا ہے۔