پشاور: ضلع کرم کے علاقے لوئر کرم میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لوئر کرم کے علاقے بگن میں ضلعی انتظامیہ کی گاڑی پر اچانک فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود زخمی ہو گئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کے پانچ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ڈپٹی کمشنر کو ابتدائی طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم بعد ازاں ان کی حالت کے پیش نظر ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور روانہ کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بگن میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حملہ نامعلوم افراد کی جانب سے کیا گیا اور تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ آر پی او کوہاٹ نے تصدیق کی ہے کہ حملہ فریقین کی جانب سے نہیں کیا گیا بلکہ نامعلوم عناصر کی کارستانی لگتی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب حال ہی میں کرم تنازع کے حل کے لیے امن معاہدہ طے پایا تھا اور کئی ماہ سے بند ٹل پارہ چنار شاہراہ کو آج کھولا جانا تھا۔ حکام نے قافلے کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے تھے لیکن فائرنگ کے باعث قافلہ ابھی روانہ نہیں ہوا۔صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ 75 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو فول پروف سکیورٹی میں روانہ کیا جائے گا، لیکن اس حملے کے بعد حکمت عملی پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔