وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ان کی تعلیم کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ ہماری حکومت لڑکیوں کو معیاری اور یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے مسلم ممالک کے وزرائے تعلیم سے ملاقات کے دوران ان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ خواتین کی تعلیم میں ان کی شرکت کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کو لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان میں 22.8 ملین بچے ابھی تک سکول سے باہر ہیں، جن میں لڑکوں کی اکثریت ہے، اور لڑکیوں کا سکول میں داخلہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم، پاکستان کے تمام صوبے اور دیگر علاقے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جامع اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں پاکستان دیگر ممالک کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے کانفرنس کے شرکاء سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم موقع ہے جس سے تعلقات کو مزید وسعت اور استحکام ملے گا۔ وفاقی وزیر تعلیم و تربیت ڈاکٹر مقبول صدیقی نے بھی کانفرنس کے انعقاد پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور اپنے اور اپنی ٹیم کے علاوہ شرکاء کی جانب سے بھی اظہار تشکر کیا۔
ترکیہ کے وزیر تعلیم نے کانفرنس کے انعقاد پر وزیراعظم کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس کانفرنس سے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے منفی پراپیگنڈے کا سدباب ہوگا۔ صومالیہ کے وزیر تعلیم نے پاکستان میں تعلیم کے دوران اپنے تجربات شیئر کیے اور مسلم ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر گفتگو کی۔ کرغزستان، ملائیشیا، مالدیپ اور گمبیا کے وزرائے تعلیم نے بھی اس کانفرنس کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور وزیراعظم کے خطاب کو سراہا۔ اس ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔