ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ایران امریکی تجاویز پرغور کر رہا ہے، ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور کسی ڈیڈ لائن پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ دشمن کی جمعرات کی رات کی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی تھی، ایرانی افواج اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ مکمل طور پرتیار ہیں اور صورتحال پر قریبی نظررکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکی تجاویزپرغور کر رہا ہے جب کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو اس کا اعلان کریں گے،ہم اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں کسی ڈیڈ لائن پر توجہ نہیں دیتے۔
اس سے قبل اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران کی مسلح افواج صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی ’جارحیت یا مہم جوئی‘ کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کی اماراتی ہم منصب سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں روس کی جانب سے امریکا ایران مذاکرات کی حمایت پر زور دیا گیا۔
روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے مذاکرات کی حمایت کی ضرورت ہے۔رپورٹس کے مطابق روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ نہیں چاہتے کہ کشیدگی کے دوبارہ آغاز سے خطے کا استحکام خطرے میں ڈالا جائے۔
ادھر امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس سے قریبی ذرائع کا دعویٰ تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باضابطہ خاتمے اور نئے ایٹمی مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق کیلئے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تیار کرلی گئی ہے۔