ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے خطاب کے بعد تیل قیمتوں میں کمی ہوگئی

ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے خطاب کے بعد تیل قیمتوں میں کمی ہوگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کے اعلان اور نئے محصولات کے اطلاق سے انکار کے بعد منگل کو ایشیائی تجارت میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔

عالمی میڈیا کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز میں 11 سینٹ یعنی 0.14 فیصد کی کمی ہوئی اور یہ 80.04 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ سب سے زیادہ کاروبار کرنے والا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ مارچ کا معاہدہ 67 سینٹ کم ہو کر 76.72 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ  83 ہزار 200 روپے تک پہنچ گئی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ پیش کیا اور کہا کہ وہ یکم فروری سے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں لیکن ان اقدامات کو فوراً نافذ نہیں کریں گے۔ اس اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تاہم مستقبل میں کینیڈین خام تیل پر محصولات عائد ہونے سے مارکیٹ میں اضافے کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔

کینیڈا کی تقریباً تمام تیل کی برآمدات امریکہ کو جاتی ہیں اور یہ عام طور پر ویسٹرن ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے مقابلے میں کم قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔ کامن ویلتھ بینک کے تجزیہ کار وِوک دھار نے ایک نوٹ میں کہا کہ امریکی پابندیاں کینیڈا کی تیل کی برآمدات کے لیے زیادہ اخراجات کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *