پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان صاحبزادہ حامد رضانے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی اب چھ ماہ کی نہیں بلکہ صرف دو سے تین ماہ کی بات ہے۔
صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تھی لیکن امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسا نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی سیاسی تحریک کے نتیجے میں ہوگی اور وہ آئین، قانون اور عوام کے ذریعے باعزت بری ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی مسکراہٹ کی وجہ یہ ہے کہ جس عمران خان کے نام پر کاٹا لگایا گیا، اسی کی بنائی ہوئی مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ دوسری مسکراہٹ کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان جیل سے باہر آرہے ہیں اور ان کی رہائی قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجزیہ کچھ معلومات اور مشاہدات کی بنیاد پر ہے۔
اس سے قبل تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں اور انہیں صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہےوہ جلد رہا ہونگے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ عمران ان کو جلد انصاف ملے گا اور وہ بری ہو جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تحریک انصاف کی حکومت نے رانا ثنا اللہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا تھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ رانا ثنا اللہ نے اپنے کیس میں خود تین چار مرتبہ بیانات تبدیل کیے، اس پر وہ خود ہی وضاحت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں پارلیمنٹیرینز کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قابل مذمت ہے۔