پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شیخ وقاص اکرم نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے نامزدگی کے معاملے سے خود کو الگ کر لیا۔
شیخ وقاص اکرم نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پارٹی نے چئیرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی کیلئے میرا نام میری مرضی کے بغیر دیا، اب پارٹی جلد ہی نئی فہرست جاری کرے گی۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے آج پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیلئے 5 نام تجویز کئے تھے۔ عمران خان نے گزشتہ روز شیخ وقاص اکرم کی جگہ جنید اکبر کو کمیٹی چئیرمین کیلئے نامزد کیا تھا۔
گزشتہ روز شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو بحال کیا تھا اور شہباز شریف نے اس سلسلے میں اپنا بیان حلفی جمع کروایا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے ایک ماہ تک سماعت کی لیکن عادل بازئی کو نہ بلایا گیا۔
شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ عجلت میں عادل بازئی کو نااہل کردیا گیا اور جس نوٹری پبلک کے دستخط تھے، ان کا بیان تھا کہ وہ عادل بازئی سے کبھی نہیں ملے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ فیصلے کے تین دن بعد نوٹری پبلک سعید احمد پر مقدمہ درج کیا گیا اور پی ٹی آئی سپریم کورٹ سے سعید احمد کو تحفظ دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر پیکا ایکٹ میں ترامیم اور ڈیجیٹل نیشن کو’کالے قوانین ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ملک بھر میں ایسے قوانین کے خلاف احتجاج کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات ملک کی آزادی اور عوامی حقوق پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور پی ٹی آئی ان قوانین کے خلاف آواز بلند کرے گی۔