سائبر کرائمز ماہرین اور سوشل میڈیا ایکسپرٹس نے شہریوں کو فری وی پی این کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفت وی پی این استعمال کرنا صارفین کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
سما نیوز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے وی پی این کا استعمال عام ہے لیکن مفت وی پی این کی سہولتیں فراہم کرنے والی کمپنیز صارفین کا ڈیٹا اپنی مرضی سے جمع کر لیتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق فری وی پی این میں ڈیٹا چوری ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ سائبر کرائمز کے ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید نے بتایا کہ جرائم پیشہ افراد یہ سوچ کر وی پی این کا استعمال کرتے ہیں کہ وہ اپنے ڈیٹا اور سرگرمیوں کو محفوظ بنا لیں گے لیکن حقیقت میں وی پی این کمپنیاں بھی اپنے ریکارڈ کو حکومتی اداروں کے ساتھ شیئر کرتی ہیں، جس سے مجرموں کی شناخت اور ان کی سرگرمیاں ٹریس کی جا سکتی ہیں۔
وقاص سعید نے کہا کہ فری وی پی این کا استعمال نہ صرف صارف کے ڈیٹا کو کمپرومائز کرتا ہے بلکہ وی پی این کمپنیاں بھی صارف سے ان کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی کی اجازت مانگتی ہیں۔ ایسے میں صارف کا تمام ڈیٹا اور انٹرنیٹ کی سرگرمیاں کمپنیز کے پاس جا سکتی ہیں، جس سے ان کا پرائیویسی کا حق متاثر ہوتا ہے۔
وقاص سعید نے کہا کہ فری وی پی این کے کچھ فوائد بھی ہو سکتے ہیں، جیسے محدود پیمانے پر ڈیٹا کی حفاظت یا جغرافیائی پابندیوں کو بائی پاس کرنا لیکن اس کے منفی پہلو زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب آپ فری وی پی این استعمال کرتے ہیں تو آپ کے ذاتی معلومات کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیںکیونکہ آپ کی پرائیویسی کا تحفظ اس سطح پر نہیں ہوتا جیسے کہ ایک پریمیم وی پی این سروس فراہم کرتی ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ وی پی این استعمال کرنے کے لیے صرف قابل اعتماد، پریمیم اور معروف سروس فراہم کنندگان کا انتخاب کریں تاکہ ان کے ڈیٹا کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔اس کے علاوہ صارفین کو اپنے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ہمیشہ اپنے انٹرنیٹ کنکشنز اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ مشورہ ان تمام افراد کے لیے اہم ہے جو انٹرنیٹ پر اپنی سرگرمیوں کو محفوظ سمجھتے ہیں اور اپنے ڈیٹا کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ فری وی پی این کے ذریعے مفت خدمات حاصل کرنے کے بجائےبہتر ہے کہ صارفین معیاری اور پریمیم سروسز کا انتخاب کریں تاکہ ان کا ڈیٹا محفوظ رہے اور وہ سائبر کرائمز سے بچ سکیں۔