مولانا فضل الرحمان کا پیکا ایکٹ پر صدر مملکت کی وعدہ خلافی پر اظہار برہمی

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی طرف سے پیکا ایکٹ کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر زرداری سے درخواست کی تھی کہ پیکا ایکٹ پر جلد بازی میں دستخط نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ صدرمملکت اس بات سے اتفاق بھی کر گئے تھے۔ تاہم صبح کو معلوم ہوا کہ صدر زرداری نے بغیر کسی پیشگی مشاورت کے پیکا ایکٹ کے مسودہ پر دستخط کر دیے ہیں جو ان کے ساتھ کی گئی بات چیت کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پی آر اے پاکستان کے موقف اور صدر مملکت کی وعدہ خلافی کی وضاحت کی۔ مولانا فضل الرحمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ محسن نقوی پاکستان آئیں گے اور صحافیوں کی آراء کو سنا جائے گا، پھر اس کے بعد دستخط کیے جائیں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنی بات سے مکر کر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے حق میں ہیں، مگر انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ موجودہ قانون کا غلط استعمال ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شرعی قوانین کو اس بنیاد پر مؤخر کیا جا سکتا ہے کہ ان کے غلط استعمال کا احتمال ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کے بل کو بھی اسی بنیاد پر مؤخر کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت کچھ کہا جائے اور صبح اپنی بات سے مکر جانا درست نہیں۔ اس سے سیاسی اختلافات بڑھتے ہیں اور عوامی سطح پر بے یقینی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ ایسا قانون ہے جس کا براہ راست اثر ملکی صحافت پر پڑتا ہے اور اس میں صحافیوں کے تحفظات اور تجاویز کو سنجیدگی سے زیربحث لایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی خرابیوں کو اجاگر کرنے پر ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے استعمال سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے تو ایسی چیزوں کو ترک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے صحافیوں اور میڈیا سے درخواست کی کہ وہ اس قانون کے حوالے سے اپنے تحفظات کو سامنے لائیں تاکہ ایک ایسا قانون بنایا جا سکے جو سب کے لیے فائدہ مند ہو۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *