برمنگھم میں حالیہ مقامی انتخابات کے بعد ایک بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے لیبر پارٹی کی اندرونی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
لیبر پارٹی کے نو منتخب کونسلر ماجد محمود نے اچانک پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اس فیصلے کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی قیادت اور پالیسیوں پر سنگین نوعیت کے تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں وہ اپنے سیاسی اصولوں اور جماعت کی سمت کے درمیان مطابقت محسوس نہیں کرتے۔
کونسلر ماجد محمود نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ لیبر پارٹی کے ساتھ اس امید پر گزارا کہ یہ جماعت محنت کش طبقے، مقامی جمہوریت، مساوات، انصاف اور اندرونی جمہوری اقدار کی نمائندہ ہے تاہم ان کے مطابق اب یہ جماعت ان بنیادی اصولوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے برمنگھم میں پارٹی گروپ کے اندرونی معاملات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ منتخب اراکین کے سوالات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے اور قیادت اور نمائندوں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان ہے۔
انہوں نے مقامی قیادت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ان کے تجربے میں موجودہ قیادت بڑے اور پیچیدہ شہر کو چلانے کی صلاحیت اور تجربہ میں کمزور نظر آتی ہے۔ انہوں نے بعض دیگر جماعت کے نمائندوں کو اہم کمیٹی عہدے دینے کے فیصلوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ اس سے مقامی آبادی میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
کونسلر ماجد محمود نے امیگریشن پالیسی اور غزہ و فلسطین کی صورتحال پر پارٹی کے مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ واضح اور مضبوط مؤقف نہ اپنانے سے خاص طور پر مسلم کمیونٹی میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ لیبر پارٹی کو ایک وسیع اور حقیقی جمہوری تحریک کے طور پر نہیں دیکھتے۔ماجد محمود نے واضح کیا کہ وہ اپنی کونسل کی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے اور اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے ۔