حکومت اور سرکاری ملازمین کی قیادت کے درمیان جاری مذاکرات کے بعد سرکاری ملازمین نے 10 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے گرینڈ دھرنے کو 20 فروری تک مؤخر کر دیا۔
حکومت نے سرکاری ملازمین کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات چیت کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ، جو ان کے مطالبات پر غور کرے گی۔ آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے چیف کوآرڈینیٹر رحمان باجوہ کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو 20 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے طویل عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں، جن میں تنخواہوں میں اضافہ، سروس اسٹرکچر میں بہتری اور دیگر مراعات شامل ہیں۔ حکومت اور ملازمین کی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ چند روز میں اس بات کا تعین ہوگا کہ آیا حکومت سرکاری ملازمین کے مطالبات پورے کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ نے سرکاری ملازمین کے حقوق کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا۔ ان کے مطابق وفاقی سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق ختم کی جائے اور صوبائی ملازمین کے طرز پر تمام وفاقی ملازمین کی اپگریڈیشن بمعہ مراعات یقینی بنائی جائے۔
چارٹر آف ڈیمانڈ میں لیو انکیشمنٹ اور وفاقی ملازمین کی پینشن اصلاحات کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ بجٹ 2024-25 میں تنخواہوں پر عائد کیے گئے ٹیکسز کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ملازمین نے اسکولوں اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بہتر اصلاحات کی جائیں اور اداروں کی نجکاری کے دوران ملازمین کی نوکریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اس کے علاوہ مکان ہائرنگ کے لیے نئے اضافے کے ساتھ نوٹیفکیشن جاری کرنے، میڈیکل، کنوینس اور ہاؤس الاؤنس میں 100 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔اگر حکومت نے ان مطالبات پر سنجیدہ غور نہ کیا تو سرکاری ملازمین نے 10 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے گرینڈ دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے، جس میں ملک بھر سے ملازمین شریک ہوں گے۔
اس سے قبل آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پاکستان نے مختلف الاؤنسز کو دگنا کرنے سمیت دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے 10 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے گرینڈ دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے چیف کوآرڈینیٹر رحمان باجوہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے سرکاری ملازمین پارلیمنٹ ہاؤس پہنچیں گے، جہاں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سرکاری ملازمین احتجاج میں شریک ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔سرکاری ملازمین کے اس احتجاج کا مقصد تنخواہوں میں اضافے، الاؤنسز میں بہتری اور دیگر مراعات کا حصول ہے۔