وفاقی وزیر پارلیمانی امورطارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کا خمیازہ دہشت گرد عناصر کو ہی بھگتنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور خطے میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور جنگ سے متاثرہ لاکھوں افغان مہاجرین کی دہائیوں تک مہمان نوازی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں خونریزی ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ افغانستان کو بھی برداشت کرنا پڑے گا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
افغان طالبان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جب سے افغانستان میں موجودہ نظام آیا ہے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس دوران آٹھ ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کا تعلق سرحد پار سے سامنے آتا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور خلیجی ممالک پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ علاقائی امن، سفارتی حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مبنی رہی ہے اور مستقبل میں بھی اسی مؤقف کو برقرار رکھا جائے گا۔