ایران پر حالیہ حملوں سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس دورے کی ٹائمنگ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اسے بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے شرمندگی قرار دیا ہے۔
مودی نے اپنے دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ بھارت نے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات میں اسرائیل کی اخلاقی یا سفارتی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم عالمی میڈیا میں اس حوالے سے مختلف تبصرے شائع ہوئے۔
امریکی بحری سرگرمیوں سے متعلق دعویٰ
سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر اور ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میکگریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے اور امریکی بحری جہاز وہاں لنگر انداز ہو کر سامان اتار رہے ہیں۔ ان کے بیان نے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
انتخابی مہم اور سیاسی مفادات کا الزام
اسرائیلی صحافی ایتائے میک نے اپنے ایک مضمون میں دعویٰ کیا کہ مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں بطور نمائشی چہرہ استعمال کیا گیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی کا اصل ہدف نیتن یاہو کے ذریعے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی حاصل کرنا تھا۔
چند عالمی اشاعتی اداروں نے تبصرہ کیا کہ یہ دورہ متنازع اسرائیلی حکومت کے لیے سیاسی سہارا ثابت ہوا، جبکہ بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا اعزاز زیادہ تر نمائشی نوعیت کا تھا۔
چابہار بندرگاہ اور کاروباری مفادات
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دورے کے پس منظر میں ایران کی اہم بندرگاہ چابہار بندرگاہ کا معاملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی کے گروپ کی اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ اور چابہار میں سرمایہ کاری موجود ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا دورے کا مقصد کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے پس پردہ یقین دہانیاں حاصل کرنا تھا۔
بھارتی میڈیا کے بعض حصوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی اور امریکی بمباری کے باوجود چابہار بندرگاہ محفوظ رہی، جس نے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی۔
بھارتی اپوزیشن کی تنقید
بھارت میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس سمیت دیگر جماعتوں نے دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے۔ رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی۔ جبکہ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے اسے بھارت کی روایتی غیر جانبدار پالیسی سے انحراف قرار دیا۔
ملک کے مختلف حصوں بشمول مقبوضہ کشمیر میں بھی احتجاجی مظاہرے رپورٹ ہوئے جہاں مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات سے فائدہ اٹھانے کے بعد مشکل وقت میں خاموشی اختیار کی جس سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔
سفارتی اثرات اور بڑھتے شکوک
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے معاملے پر خاموشی اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات نے بھارت کو ایک نازک سفارتی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا قومی وقار پر کاروباری مفادات کو ترجیح دی گئی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل کا انتظار ہے، جبکہ خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔