طالبان رجیم نے دوحہ معاہدے کا موقع ضائع کردیا، افغانستان عالمی سطح پر تنہا ہوگیا، سابق نائب افغان وزیر خارجہ

طالبان رجیم نے دوحہ معاہدے کا موقع ضائع کردیا، افغانستان عالمی سطح پر تنہا ہوگیا، سابق نائب افغان وزیر خارجہ

اسلامک امارات آف افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان تیزی سے بین الاقوامی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے اور موجودہ قیادت 2020 کے دوحہ معاہدہ سے پیدا ہونے والے مواقع سے مؤثر فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی بڑی فضائی کارروائی، افغانستان میں بگرام ایئر بیس تباہ، نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ امیجز جاری کر دیے

ایک انٹرویو کے دوران شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا کہ دوحہ معاہدے نے افغانستان کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرنے اور عالمی اعتماد حاصل کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف جنگ کے خاتمے کی بنیاد بنا بلکہ سفارتی روابط کو وسعت دینے اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے کا دروازہ بھی کھول سکتا تھا۔

کمزور طرز حکمرانی پر تنقید

شیر محمد عباس ستانکزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ کمزور طرز حکمرانی اور غیر متوازن خارجہ پالیسی نے ان امکانات کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ داخلی نظم و نسق میں بہتری اور جامع سیاسی حکمت عملی کے بغیر عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کو تشویش ناک قرار دیا اور کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط اور بااعتماد روابط کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے بڑی طاقتوں روس اور چین کے ساتھ تعلقات میں سستی کو بھی نقصان دہ قرار دیا۔

سفارتی اور معاشی تنہائی کا خدشہ

سابق نائب وزیر خارجہ کے مطابق اگر موجودہ پالیسیوں میں بروقت اصلاح نہ کی گئی تو افغانستان مزید سفارتی اور اقتصادی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی شدید معاشی مشکلات، بے روزگاری، مالی پابندیوں اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے، ایسے میں عالمی روابط کی کمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی معاشی بحالی، بیرونی سرمایہ کاری اور انسانی امداد کے تسلسل کے لیے متوازن خارجہ پالیسی اور قابل قبول داخلی نظم و نسق ناگزیر ہے۔

پالیسی میں سنجیدہ تبدیلی کا مطالبہ

شیر محمد عباس ستانکزئی نے پالیسی میں سنجیدہ تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا مستقبل دانشمندانہ قیادت اور بہتر فیصلوں سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق قیادت کو ذاتی یا گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور خطے کے ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کرنے چاہییں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *