وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت کا سولر پر ٹیکس لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلا س میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے بتایا کہ چوری والے فیڈرز پر بھی سحرو افطار کے اوقات میں بجلی فراہم کی جائیگی اور اس حوالے سے آج ہی احکامات بھی جاری کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں آئی پی پیز کا ایک بھوت سوار تھا، جسے حکومت نے بہترین انداز میں ہینڈل کیا اور آئندہ ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب حکومت آئندہ دو ماہ میں بجلی کے نرخوں میں فی یونٹ 6 سے 8 روپے تک کمی کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت بینکوں سے 1300ارب روپے کے قرضے حاصل کرنے کے لیےبات چیت کر رہی ہے۔ یہ قرضہ فکسڈ ریٹ اور مخصوص مدت کے لیے لیا جائے گا، جس سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
حکام کے مطابق حکومت نے پہلے ہی آئی پی پیز (آئی پی پیز) کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے 700 ارب روپے کی بچت کی ہے اور 300 ارب روپے کے سود کو ختم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ 6 آئی پی پیز کے معاہدے ختم کیے جا چکے ہیں جبکہ 25 آئی پی پیز کے ساتھ’ٹیک اینڈ پے‘کے معاہدے پر بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔حکومت نے سرکاری پاور پلانٹس کے ساتھ بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
ان اقدامات کے ذریعے حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ دو ماہ میں بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی لائی جائے۔ حکام کے مطابق پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً 2300 ارب روپے ہے، جسے جلد از جلد صفر کرنے کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔