امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم ایک پاکستانی شہری کو ملک کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے قومی پالیسی اور پبلک سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی سرکاری ایجنسی کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 56 سالہ پاکستانی شہری سید رضوی کو امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے قومی سلامتی کے لیے خطرے کے طور پر شناخت کرنے کے بعد امریکا سے بے دخل کرنے کا حکم دیا، سید رضوی کو امیگریشن اور نیشنلٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
انفورسمنٹ اینڈ ریموول آپریشنز ڈیلاس فیلڈ آفس کے قائم مقام ڈائریکٹر جوش جانسن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کے ان تنظیموں سے تعلقات ہیں جو عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، انہیں امریکا میں پناہ نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سب سے اہم ترجیح ان لوگوں کو گرفتار کرنا اور ہٹانا ہے جو امریکی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سید رضوی بے دخلی سے قبل بغیر اجازت ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں رہائش پذیر تھے۔
ای آر او ڈیلاس نے سید رضوی کو معمول کی ٹریفک چیکنگ کے دوران 31 جنوری کو گرفتار کیا تھا۔ 24 جنوری کو امیگریشن جج نے انہیں ریاست سے بے دخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ آئی سی ای نے بیان میں کہا کہ سید رضوی 20 ستمبر 2017 کو نیو یارک پورٹ پر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنے داخلے کی شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔
جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکا نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے اور سینکڑوں افراد کو پہلے ہی ان کے آبائی علاقوں یا کہیں اور جلاوطن کیا جا چکا ہے۔گزشتہ ماہ امریکا نے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 119 افراد کو پاناما ڈی پورٹ کیا تھا۔ مزید برآں اس معاملے سے واقف ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نئی سفری پابندی اگلے ہفتے تک پاکستانی شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر سکتی۔