افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ‘ڈیڈ لائن دیدی گئی، یہ پناہ گزین کتنے اور کہاں کہاں آباد ہیں؟

افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ‘ڈیڈ لائن دیدی گئی، یہ پناہ گزین کتنے اور کہاں کہاں آباد ہیں؟

پاکستان میں مقیم 10 لاکھ سے زیادہ سٹیزن کارڈز رکھنے والے اور غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں افغان شہریوں کو نکالنے کے لیے حکومت پاکستان نے 31 مارچ تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے جبکہ پروف آف رجسٹریشن رکھنے والے 13  لاکھ افراد کی ڈیڈ لائن 30 جون 2025 تک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کارڈ ہولڈرز سب سے زیادہ 11 لاکھ خیبرپختونخوا، 6 لاکھ بلوچستان، 3 لاکھ پنجاب اور ڈیڑھ لاکھ سندھ میں رہائش پذیر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:غیر قانونی مقیم افراد اور افغان سیٹیزن کارڈ ہولڈرز کو 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

افغان کمشنریٹ کی جانب سے آزاد ڈیجٹیل کو مہیا کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مقیم افغان شہری جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈز ہیں، ان کی تعداد 13 لاکھ 4 ہزار 650 ہے لیکن ان خاندانوں کے 1 لاکھ 45 ہزار 716 افراد غیر رجسٹرڈ ہیں، لیکن ان کو بھی کمشنریٹ نے پی او آر کارڈ ہولڈرز میں شامل کردیا ہے جو کل 14 لاکھ 50 ہزار 366 افراد بنتے ہیں۔

’پی او آر‘ کارڈ ہولڈرز کی زیادہ تعداد خیبرپختونخوا میں ہے جہاں پر 7 لاکھ 51 ہزار 293 افراد رہائش پذیر ہیں، بلوچستان میں 3 لاکھ 69 ہزار 929، پنجاب میں 2 لاکھ 2 ہزار 190، سندھ میں 80 ہزار 409، اسلام آباد میں 42 ہزار 33، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 512 افغان شہریوں نے رہائش اختیار کر رکھی ہے، حکومتی ڈیڈلائن کے مطابق مذکورہ کارڈ ہولڈرز 30 جون تک پاکستان میں رہ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نئی سفری پابندیاں، پاکستان اور افغانستان کے باشندوں کا امریکہ میں داخلہ بند ہونے کا امکان

آزاد ڈیجیٹل کو ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) ہولڈرز کی تعداد 8 لاکھ 13 ہزار10 ہے جن میں 4 لاکھ 34 ہزار 148 مرد جبکہ 3 لاکھ 78 ہزار 862 خواتین شامل ہیں۔ مذکورہ کارڈ ہولڈرز افغانوں میں سب سے زیادہ 44 فیصد یعنی کے 3 لاکھ 59 ہزار 796 افراد خیبرپختونخوا میں رہائش اختیار کرچکے ہیں جن میں 1 لاکھ 87 ہزار 545 مرد اور 1 لاکھ 72 ہزار 251 خواتین شامل ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں 33 فیصد یعنی کہ 2 لاکھ 66 ہزار 376 افغان جن میں 1 لاکھ 47 ہزار 187 مرد اور 1 لاکھ 19 ہزار 189 خواتین شامل ہیں، پنجاب میں 99 ہزار 824 افغان جو 12 فیصد بنتے ہیں، میں 52 ہزار 693 مرد اور 47 ہزار 131 خواتین شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے افغان دہشتگرد کے ہوشربا انکشافات

اسی طرح سندھ میں 65 ہزار 930 افغان شہری رہائش پذیر ہیں جو 8 فیصد بنتے ہیں ، ان میں 35 ہزار 890 مرد اور 30 ہزار 40 خواتین شامل ہیں، اسلام آباد میں 2 فیصد یعنی کہ 17 ہزار 576 افغان شہری رہائش پذیر ہیں جن میں 8 ہزار 938 مرد اور 8 ہزار 638 خواتین شامل ہیں، آزاد کشمیر میں 3 ہزار 500 اور گلگت بلتستان میں 8 افراد رہائش پذیر ہیں۔ اے سی سی کارڈز رکھنے والوں کو حکومت پاکستان نے 31 مارچ کی ڈیڈلائن دی  ہے جس کے بعد اے سی سی کارڈ ہولڈرز اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوگا۔

افغان کمشنریٹ کے عباس خان جو سابق کمشنر افغان کمشنریٹ خیبرپختونخوا بھی تعینات رہے ہیں، نے آزاد ڈیجٹیل کو بتایا کہ غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ ہے لیکن ان افراد کے بارے میں مصدقہ معلومات کسی بھی محکمے کے پاس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 31 مارچ تک نہ نکلنے والے افغان شہریوں کے خلاف پہلے مرحلے میں ان کی نشاندہی کی جائے گی اس کے بعد انہیں حراست میں لیکر بارڈرتک پہنچایا جائے گا اور پھر انہیں بارڈر کراس کروا کراپنے ملک افغانستان بھیج دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں چھاؤنی پر خوارج دہشتگردوں کا حملہ ناکام، خودکش بمباروں سمیت 16 دہشتگرد ہلاک

واضح رہے کہ یواین ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق 2002 سے لے کر 2024 تک پاکستان سے افغانستان رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے 44 لاکھ 50 ہزار 29 افراد کو واپس بھیجنے میں مدد فراہم کی گئی ہے جبکہ 2024 میں 25 ہزار 634 افراد رضاکارانہ طور پر پاکستان چھوڑ کر اپنے ملک افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *