وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے عوام کو سستی اور معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 27 نئے ’سہولت بازار‘ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس منصوبے کے تحت 13 اضافی ’سہولت آن دی گو‘ (موبائل بازار) بھی شروع کیے جائیں گے، جنہیں رواں سال جولائی تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ان بازاروں کے قیام کا مقصد عام آدمی کو براہِ راست مالی فائدہ پہنچانا ہے، جہاں اشیا اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں 40 فیصد تک سستی دستیاب ہوں گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار گھرانوں کو سالانہ 5 ارب 30 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ ان بازاروں میں اشیا کے نرخ ڈی سی ریٹ کے مقابلے میں بھی 18 فیصد کم رکھے جائیں گے۔
شہریوں کی سہولت کے لیے 5 کلومیٹر کے دائرے میں 40 منٹ کے اندر ’فری ہوم ڈلیوری‘ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس سے عوام کے وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی۔
روزگار کے مواقع اور دکانداروں کے لیے مراعات
وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کو ’گیم چینجر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان بازاروں کے ذریعے 600 سے زیادہ افراد کو براہِ راست ملازمتیں ملیں گی اور 1,300 نئے کاروبار شروع ہوں گے۔
دکانداروں کو ترغیب دینے کے لیے مفت بجلی، صفائی اور سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، جس سے ان کی سیلز میں 24 فیصد اور منافع میں 23 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
پنجاب میں بڑھتی مہنگائی اور حکومتی اقدامات
گزشتہ چند برسوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پنجاب حکومت اس سے قبل بھی ’رمضان پیکج‘ اور ’سستا آٹا اسکیم‘ جیسے اقدامات کر چکی ہے۔
مستقل بنیادوں پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک پائیدار ماڈل کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ 2026 کے وسط تک مکمل ہونے والا یہ منصوبہ دراصل سپلائی چین سے مڈل مین کا کردار ختم کرنے کی ایک کڑی ہے، تاکہ کسان اور دکاندار براہِ راست گاہک سے جڑ سکیں اور قیمتیں کم رہیں۔
’سہولت بازار‘ ماڈل کی کامیابی اور چیلنجز
40 فیصد تک رعایت ایک بہت بڑا مارجن ہے جو غریب اور متوسط طبقے کے کچن بجٹ میں واضح فرق پیدا کرے گا۔ سالانہ 5 ارب روپے سے زیادہ کی بچت عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے۔
40 منٹ میں فری ہوم ڈلیوری اور مرکزی کنٹرول روم کے ذریعے سی سی ٹی وی مانیٹرنگ یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت ان بازاروں کو روایتی لنڈا بازاروں کے بجائے جدید ریٹیل اسٹورز کے طور پر چلا رہی ہے جہاں شفافیت یقینی ہوگی۔
بھکر سے لے کر راولپنڈی اور بہاولپور تک 19 سے زیادہ شہروں کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ یہ منصوبہ صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار پورے پنجاب میں پھیلا ہوا ہے۔
سب سے بڑا چیلنج قیمتوں کے اس فرق (40 فیصد) کو برقرار رکھنا اور ہوم ڈلیوری کے نظام کو مؤثر بنانا ہوگا۔ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سبسڈی کا فائدہ اصل حقدار تک پہنچے اور ذخیرہ اندوز ان بازاروں سے سستا مال خرید کر باہر مہنگا نہ بیچیں۔