پی سی بی کا بڑا فیصلہ، قومی ٹیم کے لیے نئے بیٹنگ کوچ کی تلاش، اشتہار جاری

پی سی بی کا بڑا فیصلہ، قومی ٹیم کے لیے نئے بیٹنگ کوچ کی تلاش، اشتہار جاری

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو بہتر بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ طور پر نئے بیٹنگ کوچ کی تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے لیے باقاعدہ اشتہار بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اشتہار کی شرائط کے مطابق  اس اہم ترین عہدے کے لیے اپلائی کرنے والے امیدواروں کے پاس کم از کم لیول 2 کوچنگ سرٹیفیکیشن ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی کپتان فاطمہ ثناء نے ٹی 20 میں نیا ورلڈ ریکارڈ بنا لیا

اس کے ساتھ ساتھ، بورڈ نے میرٹ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ خواہشمند امیدوار کے پاس کسی بھی معروف یا فرسٹ کلاس سطح پر بیٹنگ کوچنگ کا کم از کم 5 سالہ وسیع تجربہ ہونا ضروری ہے۔

اشتہار کے مطابق، تمام اہل اور دلچسپی رکھنے والے امیدوار 7 جون تک اپنی درخواستیں اور ضروری دستاویزات پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں جمع کروا سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ نئی تقرری خصوصی طور پر پاکستان کی وائٹ بال (محدود اوورز) کرکٹ ٹیم کے لیے کی جا رہی ہے، کیونکہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کو اہم وائٹ بال سیریز اور بین الاقوامی ٹورنامنٹس کا سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس وقت قومی وائٹ بال ٹیم کے ساتھ عارضی یا عبوری طور پر حنیف ملک بیٹنگ کوچ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ تاہم اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جاری سیریز یا شیڈول کے تحت آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی آخری سیریز حنیف ملک کی بطور بیٹنگ کوچ الوداعی سیریز ہوگی۔

معلوم ہوا ہے کہ حنیف ملک اس وقت اپنے نوٹس پیریڈ پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے چند ہفتے قبل ہی ذاتی وجوہات یا بورڈ کے ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل پر اتفاق نہ ہونے کے باعث اپنے عہدے سے الگ ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا، جس کے بعد پی سی بی نے مستقل بنیادوں پر نئے ہائی پروفائل بیٹنگ کوچ کے لیے اشتہار جاری کیا۔

قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے مسائل اور تبدیلی کی ضرورت

پاکستانی کرکٹ ٹیم طویل عرصے سے وائٹ بال کرکٹ (ون ڈے اور ٹی 20) میں مستقل مزاجی سے بیٹنگ نہ کرنے کے باعث تنقید کی زد میں ہے۔ پاور پلے کا درست استعمال نہ ہونا، اسٹرائیک ریٹ کا کم ہونا اور مڈل آرڈر کا اچانک لڑکھڑا جانا ایسے دیرینہ مسائل ہیں جن کا حل پی سی بی اب ایک پروفیشنل اور تجربہ کار کوچ کے ذریعے تلاش کرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی دباؤ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑی، تاہم اضافہ محدود رکھا گیا تاکہ عوام پر بوجھ کم سے کم رہے، حنیف عباسی

حنیف ملک نے ایک مشکل وقت میں ٹیم کو سنبھالا، لیکن آسٹریلیا جیسے سخت حریف کے خلاف سیریز کے بعد ان کا جانا اور 7 جون کی ڈیڈ لائن یہ ظاہر کرتی ہے کہ پی سی بی آنے والے میگا ایونٹس سے قبل بیٹنگ ڈپارٹمنٹ میں ایک مکمل اوور ہال (تجدیدِ نو) کا خواہاں ہے تاکہ کھلاڑیوں کی تکنیک اور جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ان کی ذہنی پختگی پر کام کیا جا سکے۔

پی سی بی کے اس اقدام کے دور رس اثرات

لیول 2 کوچنگ اور 5 سالہ تجربے کی سخت شرط یہ ظاہر کرتی ہے کہ پی سی بی اب کسی بھی سفارشی یا غیر متبادل سابق کھلاڑی کو لانے کے بجائے ایک سند یافتہ  اور تکنیکی طور پر مضبوط کوچ لانا چاہتا ہے جو گراؤنڈ لیول پر کام کر سکے۔

وائٹ بال کرکٹ کے جدید تقاضے

ٹی 20 اور ون ڈے کرکٹ اب 350 رنز کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کو ایک ایسے بیٹنگ کوچ کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کو روایتی کرکٹ کے دائرے سے نکال کر ماڈرن پوزیٹو کرکٹ اور ہارڈ ہٹنگ سکھا سکے۔

آسٹریلیا سیریز کا چیلنج

حنیف ملک کا نوٹس پیریڈ پر ہونا اور آسٹریلیا کے خلاف ان کی آخری سیریز ہونا ٹیم کے ماحول پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ کھلاڑیوں کو یہ معلوم ہے کہ ان کا موجودہ کوچ جا رہا ہے، اس لیے نئے کوچ کی آمد تک عبوری مرحلے کو سنبھالنا کپتان اور مینجمنٹ کے لیے ایک امتحان ہوگا۔

مستقبل کی منصوبہ بندی

7 جون تک درخواستیں موصول ہونے کے بعد پی سی بی کے پاس شارٹ لسٹنگ اور انٹرویوز کے لیے محدود وقت ہوگا۔ بورڈ کی کوشش ہوگی کہ آسٹریلیا سیریز کے فوری بعد نیا کوچ ٹیم کو جوائن کر لے تاکہ اسے کھلاڑیوں کے ساتھ تال میل بٹھانے کا پورا موقع ملے۔

Related Articles