مواخذے کا شکار جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول کی رہائی، مسکراتے ہوئے جیل سے باہر آ گئے

مواخذے کا شکار جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول کی رہائی، مسکراتے ہوئے جیل سے باہر آ گئے

جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول کو عدالت نے طریقہ کار کی بنیاد پر ان کی گرفتاری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رہا کر دیا ہے، لیکن مارشل لا کے اعلان پر ان کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی۔

معطل صدر، جنہیں جنوری میں بغاوت کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، 3 دسمبر کو سویلین حکمرانی کو ختم کرنے کی کوشش کے الزام میں حراست میں لیے گئے تھے، وہ مسکراتے ہوئے حراستی مرکز سے باہر آئے اور پرجوش حامیوں کے ایک چھوٹے سے ہجوم کے سامنے مسکراتے ہوئے اپنا سر جھکا دیا۔

یون سوک یول نے اپنے وکلا کے ذریعے جاری ایک بیان میں کہا کہ ’میں اس ملک کے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اپنا سر جھکاتا ہوں‘۔ اس سے ایک روز قبل ایک عدالت نے تکنیکی اور قانونی بنیادوں پر ان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے تھے اور یہ فیصلہ یون سوک یول کے خلاف تحقیقات کرنے والے پراسیکیوٹرز نے’غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے۔

یون سوک یول کو اس وقت رہا کیا گیا جب پراسیکیوٹرز نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ختم کر دیا، جو خاص طور پر فوجداری الزامات پر ان کی حراست کی تکنیکی تفصیلات کے بارے میں تھا۔ یون سوک یول کو ایک علیحدہ آئینی عدالت کے فیصلے کا بھی سامنا ہے کہ آیا ان کے مواخذے کو برقرار رکھا جائے اور انہیں باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا جائے، اس حوالے سے ججز کا فیصلہ کسی بھی دن متوقع ہے۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ ’آئینی عدالت کے فیصلے اور متعلقہ معاملات کو دیکھتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نے ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ یون کی حراست سے رہائی کے خلاف اپیل کرنے کے بجائے ٹرائل کورٹ کے سامنے فعال طور پر اپنے دلائل پیش کرے‘۔ جنوبی کوریا میں یون سوک یول کو ہٹانے کی صورت میں 60 دن کے اندر نئے صدارتی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ ان کے خلاف فوجداری مقدمہ جاری رہے گا چاہے ان سے باضابطہ طور پر عہدہ چھین لیا جائے۔

یون سوک یول کے وکلا، جنہوں نے گزشتہ ماہ ان کی گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی تھی، نے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ نے ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے طویل انتظار کیا ۔ان کی قانونی ٹیم نے ایک بیان میں کہا کہ صدر کی رہائی قانون کی حکمرانی کی بحالی کی علامت ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *