کینیڈا میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جگہ کون لے گا، فیصلہ ہوگیا

کینیڈا میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جگہ کون لے گا، فیصلہ ہوگیا

کینیڈا کی لبرل پارٹی نے مارک کارنی کو ملک کا اگلا وزیر اعظم منتخب کر لیا ہے، حتمی اعداد و شمار کے مطابق 59 سالہ مارک کارنی نے لبرل پارٹی سے 85.9 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

سابق بینکر مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف جارحانہ مؤقف اختیار کرنے میں وقت ضائع کیے بغیر کہا کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کنینڈا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یوٹرن، میکسیکو اور کینیڈا پر عائد تجارتی ٹیرف موخر

سابق بینکر مارک کارنی آنے والے دنوں میں پارٹی کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی جگہ لیں گے، لیکن ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس وزیراعظم کا یہ عہدہ زیادہ دیر تک نہ ہو۔کیونکہ کینیڈا میں اکتوبر تک انتخابات کا انعقاد لازمی ہے لیکن مارک کارنی چند ہفتوں کے اندر قبل از وقت انتخابات کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ حالیہ جائزوں میں حزب اختلاف کی کنزرویٹو پارٹی کو معمولی فیورٹ قرار دیا گیا ہے۔

پارٹی کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کینیڈا کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔مارک کارنی نے نتائج کے اعلان کے بعد اوٹاوا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ امریکی ہمارے وسائل، ہمارے پانی، ہماری زمین اور ہمارا ملک حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ ’کینیڈین ورکرز، خاندانوں اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دے سکتے۔

مارک کارنی، جو پہلے بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ دونوں کی قیادت کر چکے ہیں، نے اپنے اہم حریف ٹروڈو کی سابق نائب وزیر اعظم کرسٹیا فری لینڈ کو شکست دی، جو 2015 میں پہلی بار منتخب ہونے والی لبرل حکومت میں کابینہ کے کئی سینیئر عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

مزید پڑھیں:تجارتی تنازع ، کینیڈا اور میکسیکو نے بھی امریکا پر جوابی وار کر دیا

لبرل قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد سے مارک کارنی کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کے حملوں کے خلاف کینیڈا کا دفاع کرنے کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔ امریکی صدر نے بارہا کینیڈا کو امریکا میں ضم کرنے کی بات کی ہے اور دوطرفہ تجارت کو بھی تجارتی افراتفری میں ڈال دیا ہے، جسے کینیڈا کی معیشت کی لائف لائن کہا جاتا ہے۔ اپنے جانشین کے اعلان سے قبل اوٹاوا کے ایک ہال میں پارٹی حامیوں سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے ٹروڈو نے کہا کہ ’کینیڈین عوام کو اپنے ہمسایہ ملک کی جانب سے قومی سلامتی کے چیلنج کا سامنا ہے‘۔

مارک کارنی سیاست دان نہیں؟

مارک کارنی نے کینیڈین سول سروس میں داخل ہونے سے پہلے گولڈمین ساکس میں سرمایہ کار بینکر کی حیثیت سے دولت کمائی ہے اور وہ ایک امیر شخص ہیں۔ 2020 میں بینک آف انگلینڈ چھوڑنے کے بعد سے انہوں نے اقوام متحدہ کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ہیں جو نجی شعبے کو ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور نجی شعبے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے چین، کینیڈا اور میکسیکو پر نئے ٹیرف عائد کردیے

انہوں نے کبھی پارلیمنٹ میں خدمات انجام نہیں دیں اور نہ ہی کسی منتخب عوامی عہدے پر فائز رہے ہیں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی مہم کی مہارت کنزرویٹو پارٹی کے خلاف اہم ثابت ہوسکتی ہے جو پہلے سے ہی اشتہارات چلا رہی ہے جس میں مارک کارنی پر عہدے تبدیل کرنے اور ان کے تجربے کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ 59 سالہ ٹروڈو نے خود کو ایک نئی آواز کے طور پر پیش کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کینیڈا کی معیشت کی تعمیر پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ آنے والے دنوں میں ٹروڈو اور مارک کارنی کینیڈا کی گورنر جنرل میری سائمن سے ملاقات کریں گے جو کینیڈا میں شاہ چارلس سوم کے سرکاری نمائندے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *